کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 155
بسم اللہ ایسا کلمہ ہے جس کے پڑھنے کی وجہ جب انسان کپڑے اتارتا ہے توشیطان انسان کی شرمگاہوں کی طرف دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ان الفاظ کے پردہ سے انسان جنات کے شر سے محفوظ رہتا ہے، پس اسے چاہیے کہ ان الفاظ کے کہنے میں غفلت نہ برتے۔ حدیث کے مطابق انسان صرف اتنے ہی الفاظ کہے جو حدیث سے ثابت ہیں، پوری بسم اللہ نہ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک بنی آدم کو دی جانے والی ہر نعمت پر ایک ڈھکن ہے؛ جنات اس ڈھکن کو اٹھانے کی جرأت نہیں کرسکتے۔[1] بیت الخلاء جانے سے قبل : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: جنات کی نظروں اور بنی آدم کی شرمگاہوں کے مابین پردہ ہوتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک بیت الخلاء میں جائے[2]تو یوں کہے: ((بِسْمِ اللّٰہِ )) ’’اللہ کے نام کے ساتھ۔‘‘[3] اور پھر یہ دعا پڑھے: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالخَبَائِثِ)) [4] [1] فیض القدیر: ۴؍۱۲۸۔ [2] یعنی وضو خانہ یا حمام میں داخل ہونے سے پہلے یہ کلمات کہہ لیں ۔کما فی الأدب المفرد(۶۹۲)۔ [3] أحمد و الترمذی و ابن ماجۃ ؛ صحیح الجامع(۳۶۱۱)۔ [4] البخاری(۱۴۲)۔ مسلم(۳۷۵)۔ اس دعا کے شروع میں بسم اللہ کے الفاظ جو زیادہ آئے ہیں و سنن سعید ابن منصور سے لیے گئے ہیں ؛ فتح الباری (۱؍۲۴۴)۔