کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 152
اور ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ ’’ شام کے وقت اپنے بچوں کو گھروں میں روک لو۔بیشک یہ وقت جنات کے پھیل جانے اور أچک لینے کا ہے۔‘‘[1] گھروں کو گانے بجانے سے پاک رکھنا: اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ ﴾ [الاسراء ۶۴] ’’اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ ۔‘‘ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ شیطان کی آواز گانے ہیں ۔‘‘[2] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ بلاشک وشبہ شیطانی احوال کو سب سے زیادہ تقویت دینے والی چیز گانے سننا اور کھیل تماشہ ہیں ۔‘‘[3] امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ حرام آلات کے ساتھ گانے جن کی وجہ سے دل قرآن سے روک دیا جاتا ہے۔اور ان کی وجہ سے دل اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کے کاموں پر لگا رہتا ہے۔گانے شیطان کا قرآن ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول میں ایک موٹا پردہ ہیں ‘‘[4] گھر کے کونوں میں نمک چھڑکنا: شیخ محترم جناب عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ جنات کو بھگانے کے [1] البخاري(۳۳۱۶)۔ [2] مختصر اغاثۃ اللفہان من مکائد الشیطان(ص ۲۱۴)۔ [3] مجموع الفتاوی(۱۱؍۲۹۵)۔ [4] اغاثۃ اللفہان من مکائد الشیطان(ص ۲۱۴)۔