کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 121
’’اے اللہ کے رسول ! مفردون کون ہیں ؟ ‘‘ آپ نے فرمایا:’’کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں ۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے یحی بن زکریا علیہ السلام کو پانچ چیزوں کو حکم دیا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دیں کہ ان پر عمل پیرا ہوں ۔ .....آپ نے وہ پانچ چیزیں شمار کیں اور پھر فرمایا: ’’ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی تلقین کرتا ہوں اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے دشمن اس کے تعاقب میں ہوں اور وہ بھاگ کر ایک قلعے میں گھس جائے اور ان لوگوں سے اپنی جان بچالے۔ اس طرح کوئی بندہ خود کو شیطان سے اللہ کے ذکر کے علاوہ کسی چیز سے نہیں بچا سکتا۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( یعقد الشیطان علی قافیۃ رأس أحدکم إذا ہو نام ثلاث عقد؛ یضرب کل عقدۃ مکانہا۔ علیک لیل طویل فارقد۔ فإن استیقظ فذکر اللّٰه انحلت عقدۃ۔ فإن توضأ انحلت عقدۃ فإن صلی انحلت عقدہ کلہا فأصبح نشیطاً طیب النفس وإلا أصبح خبیث النفس کسلان)) ’’ تم میں سے ہر ایک کی گدی پر سونے(کی حالت) میں شیطان تین [1] مسلم(۲۶۷۶)۔ [2] مسلم(۳۷۳)۔