کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 119
’’زید بن اسلم سے روایت ہے کہ انہیں [ایک بستی]معادن[1]پر نگران بنایا گیا۔تولوگوں نے وہاں پر جنات کی کثرت کی شکایت کی۔ تو آپ نے حکم دیا کہ وہاں پر ہر وقت اذان دی جائے۔اور کثرت کے ساتھ ایسا کیا جائے ۔ اس کے بعد انہیں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی۔‘‘[2] حضرت سہیل سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے بنی حارثہ کی طرف بھیجا میرے ساتھ میرا ایک ساتھی تھا تو اس کو ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا اور میرے ساتھی نے دیوار پر دیکھا تو کوئی چیز نہ تھی۔ میں نے یہ بات اپنے باپ کو بتائی؛ تو انہوں نے کہا :’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے تو میں تمہیں نہ بھیجتا ۔لیکن جب تم ایسی آواز سنو تو اذان دیا کرو۔ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیرکر بھاگتا ہے اوروہ گوزمار رہا ہوتا ہے۔‘‘[3] ۱۰۔ قرآن کی تلاوت اور شیطان سے حفاظت : مطلق طورپر قرآن مجید کی تلاوت شیطان کے شر سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ [1] معادن،آج کل اسے مہد الذہب کہا جاتا ہے۔مدینہ سے اڑھائی سو کلو میٹر مشرق کی طرف واقع ہے۔ [2] الکلم الطیب(ص ۵۳)۔ [3] مسلم(۳۸۹)۔