کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 114
(( لَاتَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ اِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِیْ یُقْرَئُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ )) [1] ’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ بے شک جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ ‘‘ ۵۔ سورت بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت: اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّ بِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ طکُلّ’، اٰمَنَ بِاﷲِ وَ مَلٰئِٓکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ قف لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ قف وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ق غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ، لَایُکَلِّفُ اللّٰه نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ط لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَا خِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ج رَبَّنَاوَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ، عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ج رَ بَّنَا وَ لَاتُحَمِّلْنَا مَا لَا طَا قَۃَ لَنَا بِہٖج وَ اعْفُ عَنَّا وقفۃ وَ اغْفِرْلَنَا وقفۃ وَارْحَمْنَا وقفۃ اَنْتَ مَوْ لٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ﴾ [البقرۃ: ۲۸۵۔۲۸۶] ’’رسول پر جو کچھ اس کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا، اس پر وہ [1] مسلم(۷۸۰)] شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اس مقصد کے لیے ٹیپ ریکارڈ پر سورت بقرہ کی تلاوت بھی لگائی جاسکتی ہے۔