کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 107
جو سب سے پہلے بازار میں جاتے ہیں اور نہ ہی ان میں سے ہو جاؤ جو سب سے آخر میں بازار سے نکلتے ہیں ۔ اس لیے کہ بازار شیطان کے معرکہ کی جگہ ہے۔ اور یہیں پر شیطان نے اپنا جھنڈا گاڑ رکھا ہوتا ہے ۔‘‘[1] ۱۹۔ فضول خرچی سے اجتناب:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک بستر مرد کا اور ایک بستر عورت کا ؛ تیسرا بستر مہمان کے لیے، اور چوتھا شیطان کے لیے ۔‘‘[2] ۲۰۔ نیند سے بیداری کے وقت تین بارناک جھاڑنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی ایک نیند سے بیدار ہو تو اسے چاہیے کہ تین بار اپنی ناک جھاڑ دے ؛ اس لیے کہ شیطان ناک کے بانسے پر رات گزارتا ہے۔‘‘[3] ٭٭٭ [1] مسلم(۲۴۵۱)۔ [2] مسلم(۲۰۸۴)۔ [3] البخاری(۳۲۹۵)۔ مسلم( ۲۳۸)۔ یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں ۔ناک جھاڑنے سے مراد یہ ہے کہ پہلے ناک میں پانی ڈال کر اسے اوپر کھینچا جائے اور پھر ناک کو جھاڑ دیا جائے۔ اور ناک کے بانسے سے مراد اس کا بلند ترین حصہ ہے۔ اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ ناک میں نرم ہڈی والے حصہ کو بانسا کہا جاتا ہے۔ اس کا معنی اورحدود متعین کرنے میں علماء کے مابین اختلاف ہے۔