کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 106
اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ:’’ مجھے اپنی عزت و جلال کی اور بلندیء رتبہ کی قسم ہے! میں ان کو بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔‘‘[1] ۱۷۔ کاناپھوسی سے زبان کی حفاظت: اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ اِِنَّمَا النَّجْوَی مِنْ الشَّیْطَانِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیْسَ بِضَارِّہِمْ شَیْئًا اِِلَّا بِاِِذْنِ اللّٰہِ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴾ [المجادلۃ ۱۰] ’’بیشک سرگوشیاں شیطانی کام ہے تاکہ اس سے ایمانداروں کو رنج پہنچے گو اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم تین ہوجاؤ تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سر گوشی نہ کریں ۔یہاں تک کہ لوگوں میں گھل مل جائیں ۔ اس لیے کہ دوافراد کا سر گوشی کرنا تیسرے کو[پریشان و] غمگین کردیتا ہے۔ ‘‘[2] ایک روایت میں ہے : ’’ ایسا کرنے سے تیسرا غمگین ہوجاتا ہے ۔‘‘ ۱۸۔ صرف اپنی ضرورت کے لیے ہی بازار میں جائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو تو پھر ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ [1] مشکوۃ؛مسند أحمد ۱۱۲۵۵۔ [2] البخاری(۶۲۹۰)۔مسلم(۲۱۸۴)۔