کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 105
ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے اس سے پناہ مانگے اور اس خواب کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے بے شک وہ اسے نقصان نہیں دے گا۔اگر اچھا خواب دیکھے تو اس سے خوشخبری حاصل کرے، اور اس کی خبرصرف اپنے سے محبت کرنے والوں کو دے۔‘‘[1] اور ایک روایت میں ہے : ’’اس کی خبر صرف اپنے محبوب یا صاحب رائے [تعبیر کرنے والے ] کو دے۔‘‘[2] ۱۴۔ دور اندیشی اختیار کیجیے جلد بازی سے اجتناب کیجیے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ بیشک دور اندیشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ ‘‘[3] ۱۵۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’بیشک شیطان اس کھانے کو اپنے لیے حلال کر لیتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے۔‘‘[4] ۱۶۔ اپنی زبان کو ذکر الٰہی اور توبہ و استغفار سے تَر رکھیں : حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ بلا شبہ شیطان نے کہا کہ اے رب! قسم ہے تیری عزت کی کہ میں تیرے بندوں کو بہکاتا ہی رہوں گا، جب تک کہ ان کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں گی۔ اس پر [1] مسلم ۲۲۶۱ [2] صحیح أبي داؤد(۵۰۲۰)۔صحیح ابن ماجۃ(۳۹۱۴)۔ [3] صحیح الجامع(۳۰۱۱)۔والصحیحۃ(۱۷۹۵)۔ [4] احمد(۵؍۳۸۳)۔مسلم(۲۰۱۷)۔