کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 101
شیطانی چالوں اورمکروں سے بچاؤ ۱۔ اکیلے سفر نہیں کرنا چاہیے۔جماعت کی صورت میں سفر کریں جس کے لیے کم از کمتین افراد ہونے ضروری ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک آدمی ایک شیطان ہے؛ اور دو آدمی دو شیطان ہیں، اور تین افراد قافلہ ہیں ۔‘‘[1] ۲۔ سائے اور دھوپ کے درمیان میں نہ بیٹھو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی بھی انسان سائے اوردھوپ کے درمیان میں نہ بیٹھے ۔‘‘[2] دوسری روایت میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاکہ ’’کوئی بھی انسان سائے اوردھوپ کے درمیان میں نہ بیٹھے؛ اورفرمایا:’’ اس طرح کی مجلس شیطان کی مجلس ہوتی ہے کہ کوئی انسان آدھا سائے میں ہو اور آدھا دھوپ میں ہو۔ ‘‘[3] [1] صحیح أبي داؤد(۲۲۷۱)۔صحیح الترمذي(۱۳۶۸)۔ [2] أخرجہ الحاکم في المستدرک(۴؍۲۰۷۱)۔وصححہ ووافقہ الذہبي۔وانظر صحیح الجامع(۶۸۴۰)۔ [3] أحمد فی مسندہ(۳؍۴۱۳) والصحیحۃ(۸۳۸)۔ والجامع الصحیح(۶۸۲۳)