کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 98
''اشارتست بافضلیت قیام تراویح در آخر شب جہت فضل وقت و زیادة مشقت۔(اشعة اللمعات ص 585)قال الطیبی تنبیہ منہ علی ان صلوٰة التراویح فی اخر اللیل افضل(مرقاة ج 2 173)۔ علامہ ابن الہمام لکھتے ہیں: واختلف فی ادائھا(ای فی اداء التراویح)بعد النصف فقیل یکرہ لانھا تبع للعشاء کسنتھا والصحیح لا یکرہ لانھا بعد صلوة اللیل والافضل فیھا اخرہ انتھی(فتح القدیر ج 1 ص 206) در مختار میں ہے: ووقتھا صلوٰة العشاء الاخرة الی الفجر قبل الوتر وبعدہ فی الاصح اسی طرح ہدایہ میں ہے: الاصح ان وقتھا بعد العشاء الی آخر اللیل قبل الوتر وبعدہ ان عبارتوں سے صاف ظاہر ہے کہ تراویح آخر شب میں،بلکہ وتر ادا کرنے کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہے۔لہذا یہ کہنا باطل ہو گیا کہ آخر شب میں جو نفل نماز پڑھی جائے گی وہ تراویح نہیں ہو سکتی۔ پس حضرت طلق بن علی کی یہ نماز تراویح بھی تھی اور تہجد بھی۔نفل کی کی حیثیت سے اس کی رکعات کی تکثیر کوئی قابل اعتراض نہیں،بلکہ فی الجملہ امر مرغوب فیہ ہے۔ لیجئے اس دلیل سے بھی تہجد رمضان اور تراویح کا دو جداگانہ نماز ہونا ثابت نہ ہو سکا۔اگرچہ پیر اور مرید دونوں نے مل کر اس کی کوشش کی۔صحیح ہے: (ما کل یتمنی المرء یدرکہ)