کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 8
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمَ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَ عَلیٰ آلِهِ وَ اَصْحَابِهِ وَاتِّبَاعِهِ اَجْمَعِیْنَ ۔ اما بعد قصبہ مؤضع اعظم گڑھ (یوپی) ہندوستان میں ایک مشہور تجارتی مقام ہے ۔ وہیں سے ایک رسالہ ’’رکعات ِتراویح ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے ۔ اس کے ٹائیٹل پر مؤلف کا نام اس طرح درج ہے : ’’علامہ کبیر محدث شہیر حضرت مولانا حبیب الرحمن الاعظمی دامت فیوضہم ‘‘۔ اصل مبحث کے لحاظ سے نہ یہ رسالہ ہی نیا ہے اور نہ اس کے مندرجات انہیں چبائے ہوئے لقموں کو ’’محدث شہیر‘‘ نے بھی الفاظ کے ہیرپھیر اور مغالطہ آمیز جملوں کے ساتھ دہرایا ہے ۔ جوا س سے پہلے بارہا لکھے لکھائے جا چکے ہیں ۔ ہاں اس رسالے کی اشاعت سے یہ ضرور ہوا کہ مولانا ’’دامت فیوضہم ‘‘ کو مسلک اہلِ حدیث ، جماعت اہل حدیث اور علمائے اہل حدیث سے جو دیرینہ عداوت ، تعصب ، عناد اورحسد ہے ان کی نمائش کا ایک موقعہ آپ نے پھر پیدا کر لیا ۔ حمد و صلوٰۃ کے بعد ہی ’’ علامہ کبیر ‘‘ اور ’’ محدث شہیر‘‘ نے طنز و تعریض کے فقروں کے ساتھ جو زبان کھولی ہے تو کتاب کے آخر تک یہی انداز چلا گیا ہے ۔ جا بجا علماء اہل حدیث کی علمی شان کی تخفیف اوراپنے پندار علمی کا مظاہرہ فرمایا گیا ہے ۔ حیرت تو یہ ہے کہ بایں ادّعائے فضل و کمال ایک خالص علمی و تحقیقی مسئلہ کو جذباتی رنگ میں پیش کیا گیا ہے ۔ عوام کی ناواقفیت سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے رسالہ کے شروع اورآخر میں خصوصیت کے ساتھ اس بات کو نمایا ں کیا گیا ہے کہ رکعاتِ تراویح کے باب میں اہل حدیث کا مسلک