کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 52
نقص الصلوة المسماة بالتراویح علی عدد معین و تخصیصھا بقراء ة مخصوصة لم ترد بہ سنة(رکعات صفحہ 16،17) ج:اس عبارت کے ساتھ بھی مولانا مئوی نے وہی سلوک کیا ہے جواب تک وہ اس سلسلے کی دوسری عبارتوں کے ساتھ برابر کرتے چلے آ رہے ہیں یعنی سلسلہ عبارت کا پہلا حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کلام کا مفہوم بدل گیا ہے۔ علامہ شوکانی نے سب سے پہلے فتح الباری کے حوالہ سے رکعاتِ تراویح کی تعداد کے متعلق مختلف اقوال و آثار نقل کیے ہیں۔اس کے بعد لکھتے ہیں ھٰذا ما ذکرہ فی الفتح من الاختلاف فی ذالک واما العدد الثابت عنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم فی صلوتہ فی رمضان فاخرج البخاری وغیرہ عن عائشة انھا قالت ما کان النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرة رکعة واخرج ابن حبان فی صحیحہ من حدیث جابر انہ صلی اللّٰه علیہ وسلم بہم ثمان رکعات ثم اوتر …([1])واما مقدار القراء ة فی کل رکعة فلم یرد بہ دلیل والحاصل ان الذی دلت۔الخ(نیل باب صلاة التراویح)۔ ''یعنی عدد تراویح کے باب میں یہ وہ اختلافات ہیں جو فتح الباری میں بیان کئے گئے ہیں،لیکن ان تمام اعداد میں وہ عدد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہے وہ آٹھ رکعات بلاوتر اور گیارہ رکعت مع وتر ہے۔جیسا کہ بخاری وغیرہ میں حضرت [1] یہاں امام شوکانی نے حضرت ابن عباس کی وہ روایت ذکر کی ہے جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعات تروایح پڑھی تھی،لیکن اس کے ساتھ ہی پھر انہوں نے اس کا نصف بھی واضح کر دیا ہے۔(منہ)