کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 395
حکمہ لعدم علمہ بمن قال بہ فان الدلیل یجب اتباع مدلولہ وعدم العلم بمن قال بہ لا یصح ان یکون معارضابوجہ ما فھذاطریق جمیع الائمۃ المقتدی بہم۔(مجموعۃ الحدیث النجدیہ ص ۵۵۲) یعنی جس امر کا ثبوت کسی دلیل شرعی سے ہو جائے اس کی نسبت یہ بات کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کی نفی اس لئے کر دے کہ اس پر کسی کے عمل کرنے اور اس کے قائل ہونے کا اس کو علم نہیں ہوا۔کیونکہ دلیل کے مدلول کی اتباع واجب ہے اس کے مطابق کسی کے قول و عمل کا علم نہ ہونا اس دلیل کا معارض کسی طرح نہیں ہو سکتا۔یہی طریقہ ان تمام ائمہ کا رہا ہے جن کی اقتدا کی جاتی ہے۔ افادات علامہ ابن حزم ؒ:اجماع کے ایسے دعووں کی علامہ ابن حزم اندلسی نے بھی الاحکام فی اصلول الاحکام میں تفصیل کے ساتھ نہایت پرزور طریقہ پر تردید کی ہے اس کتاب کا چوتھا حصہ ص ۱۷۲ سے ۱۹۰ تک ملا حظہ فرمائیں۔ذیل میں ہم چند عبارتیں اختصار کا لحاظ کرتے ہوئے اس کتاب سے نقل کر دیتے ہیں جن سے اندازہ ہو سکے گا کہ علامہ موصوف کی اس باب میں کیا تحقیق ہے: صحیح اور معتبر و مستند اجماع کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اس اجماع کا ذکر کیا ہے جو اس وقت زیر بحث ہے۔لکھتے ہیں: ثم حدث بع د قرن الرابع طائفۃ قلت مبالاتھا بہا تطلق بہ السنتھا فی دین اللّٰه تعالی … نصر التقلید من لا یغنی عنہم من اللّٰه شیئا من ابی حنیفۃ و مالک و الشافعی رحمہم اللّٰه الذین قد برأوا الیہم عماھم علیہ من التقلید فصاروا اذا عوزھم شغب ینصرون بہ فاحش خطاھم … فقالوا ھذا اجماع فاذا