کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 309
استادوں اور شاگردوں کی تعیین کی جا سکتی ہے اور کتب رجال سے اس کی عدالت و ثقاہت کا حال بھی نا معلوم ہی ہے۔تو اب اس کے مجہول اور نا معلوم ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے۔لہذا اگر تقریب والے ابوالحسناء سے آپ کی جان چھوٹ بھی گئی تو بتائیے اس سے آپ کو فائدہ ہی کیا پہونچا؟جب کہ اس ابوالحسناء کی جہالت تقریب والے سے کم نہیں،بلکہ بڑھکر ہی ہے۔ الغرض حافظ صاحب کے دونوں اعتراض(ابوالحسناء کا مجہول ہونا اوراس کی روایت کا منقطع ہونا)اپنی جگہ بالکل اٹل ہیں اور آپ رجال میں اپنی پوری مہارت یا کامل غوروفکر کرنے کے باوصف ان اعتراضوں کو نہیں اٹھا سکے۔اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ رجال میں پوری مہارت آپ کو ہے یا حافظ صاحب کو۔اور کامل غوروفکر آپ نے نہیں کیایا حافظ صاحب نے؟۔ قرائن کا جواب اس کے بعد مولانا مئوی نے حضرت علی کے اثر کے صحیح ہونے کے ثبوت میں ان کے شاگردوں کے عمل کو قرینہ بنا کر پیش کیا ہے لکھتے ہیں: علاوہ بریں حضرت علی کے اثر کے صحیح ہونے کا ایک زبردست قرینہ یہ ہے کہ جو لوگ حضرت علی کے خاص صحبت یافتہ اور شاگرد اور ان کے مستقر خلافت کوفہ میں رہتے تھے۔وہ بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔(رکعات ص82) ج:جی نہیں یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ شاگرد کا جو مسلک ہو۔وہی استاد کا بھی ہو۔دور کیوں جائیے۔ائمہ اربعہ رحمہم اللہ ہی کو لے لیجیے۔کیا ان کے درمیان استادی شاگردی کے تعلقات نہیں ہیں۔امام مالک امام ابوحنیفہ اور امام شافعی دونوں کے استاد[1]ہیں،لیکن کیا ان میں سے کسی ایک کے مسلک کو بھی دوسرے [1] اس کی تفصیل سید سلیمان ندوی مرحوم کی کتاب ''حیات امام مالک'' ضرور دیکھئے