کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 288
متکلم فیہ راوی ہیں۔چنانچہ حماد بن شعیب کی نسبت حافظ ذہبی لکھتے ہیں … یعنی حماد بن شعیب حمانی کوفی ابوالزبیر وغیرہ سے روایت کرتے ہیں۔یح بن معین نے ان کو ضعیف کہا ہے اور یح بن معین نے ایک بار یہ بھی کہا ہے کہ یہ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ان کی حدیث لکھی جائے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے حق میں فیہ نظر[1]کہا ہے۔اور نسائی نے بھی ان کو ضعیف کہا ہے اور ابن عدی نے کہا کہ ان کی اکثر حدیثیں اس قسم کی ہوتی ہیں جن پر ان کی کوئی متابعت نہیں کرتا اور ابو حاتم نے کہا کہ'' یہ قوی نہیں ہیں ''۔(میزان الاعتدال ص 279 ج 1 طبع مصر)۔ عطا بن سائب کی نسبت حافظ ذہبی نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے۔عطاء بن سائب کو فی علماء تابعین میں سے ایک عالم ہیں۔آخر میں ان کے حافظہ میں تغیر آگیا تھا اور حافظہ بگڑ گیا تھا۔امام احمد بن حنبل نے کہا جن راویوں نے ان سے قبل میں حدیث سنی وہ صحیح ہے اور جنہوں نے بعد میں سنی وہ کچھ نہیں ہے۔احمد بن ابی خیثمہ نے یح سے نقل کیا کہ شعبہ اور سفیان نے عطاء سے جو سنا ہے وہ ٹھیک ہے اس کے سوا عطاء بن سائب کی سب حدیث ضعیف ہے۔یح بن سعید نے کہا کہ حماد بن زید نے بھی عطاء سے ان کے حافظہ کے تغیر سے پہلے سنا ہے۔امام بخاری نے کہا کہ عطاء بن سائب کی قدیم حدیثیں صحیح ہیں۔ابو حاتم نے کہا کہ عطاء حافظہ کے تغیر سے پہلے سچائی کے محل تھے۔نسائی نے کہا عطاء اپنی قدیم حدیثوں کے بارے میں ثقہ ہیں۔کیونکہ بعد میں ان کے حافظہ میں تغیر آ گیا تھا۔شعبہ اور سفیان ثوری اور حماد بن زید نے عطاء سے جو حدیثیں روایت کی ہیں [1] قولہ فیہ نظر قال الحافظ السیوطی البخاری یطلق فیہ نظر و سکتوا عنہ فیمن ترکوا حدیثہ ویطلق منکر الحدیث علی من لا تحل الروایة عنہ(تدریب الراوی ص 127 وکذا قال العراقی فی شرح الفیة ج 2 ص 41)