کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 184
راوی یحیٰ بن معین ہیں،لیکن اس کے باوجود ابن معین نے ابراہیم ابو شیبہ کو ضعیف اور لیس بثقةٍ ہی کہا ہے۔(تہذیب التہذیب ص144 ج1)یہ وہی یحیٰ بن معین ہیں جن کو ''علامہ'' مئوی نے عیسیٰ بن جاریہ پر جرح کے سلسلے میں لکھاہے۔'' امام فن جرح و تعدیل یحیٰ بن معین '' دیکھو رکعات ص27۔ابو شیبہ کی بابت امام ابن المبارک نے کہا ہے ارم بہ(تہذیب التہذیب ص145 ج1)یعنی پھینکو اس کو۔یہ وہی ابن المبارک ہیں جن کی شان میں ''علامہ'' مئوی لکھتے ہی'حضتعبداللہ بن مبارک جن کی امامت اور علمی جلالت مسلّم او رمتفق علیہ ہے .........................(دیکھو رکعات ص10) کیا ابن معین اور ابن مبارک کی جلالت اور فنی مہارت کا مظاہرہ صرف ہم پر رعب جمانے کے لئے ہے،اپنے عمل کرنے کے لئے نہیں ہے؟ حافظ ابن حجر جنہوں نے تہذیب التہذیب میں یزید بن ہارون اور ابن عدی کے مذکورہ بالا دونوں قول ذکر کئے ہیں۔تقریب التہذیب میں ابراہیم کو کم سے کم جس وصف کا مستحق قرار دیا ہے وہ یہ کہ ان کو متروک الحدیث لکھا ہے اور حافظ یہ لفظ اس راوی پر بولتے ہیں جس کی قطعًا کسی نے توثیق نہیں کی اور اس کے باوجود وہ ایسی جرح کے ساتھ ضعیف ٹھہرایا گیا ہے جو اس راوی کے ثقہ ہونے میں قادح ہے۔چنانچہ ان کی عبارت یہ ہے: العاشرة من لم یوثق البتة وضعف مع ذالک بقادح والیہ الاشارة بمتروک اومتروک الحدیث او واہی الحدیث اوسا قط انتہیٰ حافظ کے اس بیان کے مطابق ابراہیم کی توثیق تو کسی نے نہیں کی۔ہاں اس کو ضعیف ٹھہرایا گیا ہے اور ایسی علت کے ساتھ جو اس کے لئے قدح کا موجب ہے۔