کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 108
لکھتے ہیں: فان کانت القصة واحدة احتمل ان یکون جابر ممن جاء فی اللیلة الثالثة فلذلک اقتصر علی وصف لیلتین انتہی(فتح الباری ص10 ج2 طبع مصر) حافظ کے اس کلام کا مقصد یہ ہے کہ ان راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی شرکت تدریجًا ہوئی تھی۔کچھ پہلی شب میں شریک ہوئے تھے۔اس سے زیادہ دوسری شب میں اور اس سے زیادہ تیسری شب میں۔یہاں تک کہ:فلما کانت اللیلة الرابعة عجز المسجد عن اہلہ(بخاری عن عائشہ ص269 و مسلم ص 259ج 1)تو ہو سکتا ہے کہ حضرت جابر بھی انہی لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے تیسری اور چوتھی شب میں شرکت کی تھی۔اس لئے انہوں نے ان دو راتوں کا حال بیان کیا ہے۔اورحضرت عائشہ نے چاروں شب کا حال دیکھااس لئے انہوں نے چاروں کا حال بیان کیا ہے۔ اس توجیہہ کی بنا پر ان دونوں روایتوں کا اختلاف بڑی آسانی سے دور ہو جاتا ہے لیکن اگر یہ دونوں واقعے الگ الگ بھی مانے جائیں اور حضرت جابر نے فقط ایک ہی شب کا حال بیان کیا ہو تب بھی اس سے نفس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔آٹھ رکعت تراویح کی مسنونیت تو بہر حال ثابت ہو جائے گی،کیونکہ بقول مولانا رشید احمد گنگوہی ''تسنن کے واسطے ایک دفعہ کا فعل بھی کافی ہے ''۔ملاحظہ ہو الرای النجیح ص 16۔ قولہ:اس سلسلہ کی چند روایتوں کا ذکر کے بعد مولانا مئوی لکھتے ہیں: لیکن اس حالت میں کہ تراویح باجماعت کے واقعہ یاواقعات کے ناقل کئی صحابیوں کے شاگرد ہیں اور ان میں کوئی بھی رکعات کا ذکر