کتاب: عمل صالح کی پہچان - صفحہ 31
اس کی عبادات میں ] کسی کو شریک ٹھہراتا تھاتو وہ دوزخ کی آگ میں داخل ہوگا ۔ اور جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ [اس کی ذات وصفات یا اس کی عبادات میں ] کسی کو شریک نہ ٹھہرایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔‘‘ بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : ((أَيُّ الذَّنْبِ أَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ : أَنْ تَدْعُوَ لِلّٰہِ نِدّاً وَہُوَ خَلَقَکَ )) ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : [سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ] تُو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، حالانکہ تجھے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ۔‘‘ اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل و زنا کا ذکر فرمایا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ فرقان کی آیت : ۶۸ نازل فرمادی : {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہاً آخَرَ وَلَایَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلَا یَزَْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ أَثَاماً علیہم السلام } ‘’اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے وہ ہیں ] جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے ،نہ کسی کو نا حق قتل کرتے ہیں ،اور نہ ہی زنا کرتے ہیں ،اور جو کوئی اِن امور کا ارتکاب کرے ،وہ گناہ ِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے ۔‘‘[1] بخاری شریف میں ارشاد ِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((اَلْکَبَائِرُ : اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ )) [1] بخاری مع الفتح : ۶۸۶۱ ، مسلم مع نووی ۱؍۲؍۸۰