کتاب: عمل صالح کی پہچان - صفحہ 106
دین (کی تبلیغ)میں خیانت کی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’میں نے آج تمہارے لیٔے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔‘‘ پس جو چیزاُس دن دین نہیں تھی وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔‘‘ اس طرح کسی بدعت کو ایجاد کرکے گویا اس شخص نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ہے جو کہ جرمِ عظیم ہے۔ جرمِ شریعت سازی اور دینی ایجادات کے سلسلہ میں ہماری یہ بات کوئی مفروضہ ہے نہ کسی شاعر کے تخیّل کی بلند پروازی کا نتیجہ بلکہ یہ ایک امرِ واقع ہے کہ ایسے لوگ بھی بکثرت موجود ہیں جنہیں ہم شریعت ساز کہہ رہے ہیں اور ایسے افعال کی فہرست بھی خاصی طویل ہے جنہیں ایجادِ بندہ کہا جا سکتا ہے۔ شریعت سازوں کی یہ دینی ایجادات بعض حدود وقیود کو چھوڑ کر اپنی شکل و صورت اور طریقہ وہیئت کذائی کے اعتبار سے ایسے خوبصورت اسلامی رنگ میں پیش کی جا تی ہیں کہ شرعی امور اور ان ایجادات میں فرق کر نا مشکل ہو جاتا ہے حتی کہ ناخواندہ خواتین و حضرات اور واجبی سے پڑھے لکھے لوگ بھی اس دامِ ہمرنگِ زمین میں بآسانی گرفتار ہو جا تے ہیں کیونکہ انہیں سنت وثواب کے حوالہ سے جب ان امور کے بارے میں بتایا جا تا ہے تو وہ جھانسے میں آجاتے ہیں کیونکہ انہیں خود ساختہ اعمال پر شرعی اعمال کا دھوکہ ہوجاتا ہے مگر درحقیقت ان اختراعات کو اسلام ،شریعت ، عباداتِ مسنونہ اور اعمالِ صالحہ سے دور کابھی کوئی واسطہ نہیں ہو تابلکہ وہ محض ایجادِ نو اور صریح دھوکہ ہی ہو تے ہیں جنہیں آپ ذرا مہذّب انداز سے’’حسین دھوکہ‘‘ کہہ سکتے ہیں ۔ ایسے افعال کو ہی شرعی وفقہی اصطلاح میں ’’بدعات‘‘ کہا جا تا ہے۔ ایسے امور کی مذمّت بکثرت احادیث میں وارد ہوئی ہے جن میں سے چند ذکر کی گئی ہیں ۔ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی خطبہ ارشاد فرماتے تو ایسی ایجاداتِ دینیہ کی سخت مذمت فرمایا کر تے