کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 416
سماحۃ الشیخ ابن باز رحمہ اللہ از: ابوابراہیم اصغر نیپالی[1] غمزدہ خورد وکلاں ہیں غمزدہ ہیں خاص وعام چل بسے دار البقا کو تھے جو وہ مفتیِ عام حکمتِ عملی روش تھی، پیکر اخلاق تھے متعصب منحرف کو کر دیا کرتے تھے رام دعوتِ دیں اُن کا شیوہ پرچم اسلام وہ جمگھٹا طلبا کا جن کے درس میں تھا صبح وشام یہ جہاں فانی ہے لوگو! غور سے سن لو اسے جاتے جاتے کہہ گئے سب سے یہی مفتیِ عام گرچہ ہم نے کر دیا سپردِ خاک اس شیخ کو پھر بھی تابندہ رہے گا دہر میں وہ نیک نام شیخ صاحب کی کتابِ زیست اب تیار ہے گو مفصل ہے نہیں ہاں ہے مگر حاصل کلام شیخ رضواں کی ہے کاوش خوب تر اس باب میں لکھ کے ان کی زندگی پائیں گے وہ بھی نیک نام ہے دعا اصغر کی یا رب دے ہمیں نعم البدل اور دے فردوس میں اُن کو جو ہے اعلیٰ مقام
[1] تعارف مولانا محمد شعیب بن شیخ مظہر بن شیخ سفر الدین جناب مولانا محمد شعیب بن شیخ مظہر بن شیخ سفر الدین کی ولادت سن 1971ء میں لچھ مینیا نامی بستی میں ہوئی۔ یہ بستی نیپال کے ضلع روتہٹ کی پنچایت کرونیا میں واقع ہے۔ ان کی تعلیم کا آغاز مسلم رواج کے مطابق بستی ہی کے مکتب میں قاعدہ بغدادی سے ہوئی۔ ان کے پہلے استاذ بستی کے مولوی واعظ الحق مرحوم تھے۔ وہ انتہائی مخلص اور محنتی انسان تھے۔ بچوں کی تعلیم وتربیت بڑے ٹھوس انداز میں کیا کرتے تھے۔ مولانا محمد شعیب مدنی اعلیٰ تعلیم کے لیے نیپال کے معروف ادارہ جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں چلے گئے اور وہیں سے 1991ء میں سند فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی میں ہو گیا، وہاں سے آپ نے1998 ء میں کلیۃ الحدیث سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعدعملی میدان میں اپنا قدم رکھ دیا۔ آپ کے علاقے میں دینی تعلیم وتربیت کا معقول انتظام نہ تھا؛ چنانچہ آپ نے قبا ٹرسٹ کے تحت مدرسہ دار الکتاب والسنۃ اور معہد حفصہ رضی اللہ عنہا کی بنیاد رکھی۔ یہ دونوں ادارے آپ کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔ آپ ضلعی جمعیت اہلحدیث کے صدر اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کاٹھمنڈو کی مجلس عاملہ کے رکن ہیں۔تعلیمی زمانے میں اور اس کے بعد کے ایام میں بھی آپ کے مضامین ماہنامہ نور توحید کی زینت بنتے رہے ہیں۔ مجھے مولانا موصوف سے گہرے تعلقات ہیں۔ یہ انتہائی متواضع اور ملنسار انسان ہیں۔ اعلیٰ اخلاق ان کی فطرت ہے اور حسن کردار ان کا شیوہ۔ اللہ تعالیٰ موصوف سے زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت لے۔ آمین