کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 415
اس کتاب میں میں نے وہ تمام اداریے جمع کر دیے ہیں جو علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے محدث بنارس میں لکھے تھے۔ یہ ایک علمی سرمایہ ہے جس سے نہ جانے امت کب تک محروم رہتی۔ میں نے خود بنارس جا کر اور کئی حضرات سے مل کر یہ مسودات حاصل کیے اور اسے منظر عام پر لانے کی کوششیں کیں۔ امید ہے کہ دو تین ماہ کے اندر یہ کتاب منظر عام پر آ جائے گی۔ ان شاء اللہ یہ واضح رہے کہ علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کے سارے مضامین ومقالات کو بھی میں نے اکٹھا کر لیا ہے؛ بلکہ مسودات کو ٹائپ بھی کروا لیا ہے۔ فرصت ملتے ہی انھیں بھی کتابی شکل میں منظر عام پر لانے کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ قارئین کرام! یہ مختصر سی فہرست میرے کاموں کی آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ جہاں تک ترجمہ اور ایڈٹ کا سوال ہے تو میں نے اس میدان میں اب تک کئی درجن کتابوں پر کام کیا ہے۔ علمی کانفرنسوں میں شرکت: ویسے تو مجھے کئی ایک اجتماع میں شرکت کرنے کا موقع ملا ہے۔ مگر ان میں قابل ذکر 8،9 مارچ 2008ء کا وہ سیمینار ہے جو علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی حیات وخدمات کے موضوع پر جمعیت اہلحدیث کمپلیکس دہلی میں ہوا تھا۔ اس میں اسی (80) کے قریب مقالہ نگاران کے نام تھے۔ میں نے بھی شرکت کی۔ مگر اس میں شرکت کرنے سے چار سال قبل میں نے علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی سوانح حیات پر ایک کتاب عربی زبان میں لکھی تھی جو ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل ہے اور جو فرید بکڈپو دہلی سے شائع ہو چکی ہے۔ یہ ہے ہماری مختصر سی سرگزشت یا سوانحی خاکہ۔ آپ کا بھائی رضوان اللہ ریاضي 6؍ اپریل 2010ء ٭٭٭