کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 409
میں ہمیں یہ فکر دامنگیر ہے کہ نہ معلوم اسے نوکری ملے گی یا نہیں۔ لیکن اللہ گواہ ہے اور میرے وہ ساتھی بھی باحیات ہیں۔ ابھی مجھے ایک ہی ہفتہ کام چھوڑے ہوا تھا کہ میری سروس مکتبہ دارالسلام ریاض میں بحیثیت مترجم لگ گئی۔ جبکہ وہاں میرے دو ساتھی مجھ سے قبل کام کی تلاش میں گئے تھے اور انھیں انکار میں جواب ملا تھا۔ مگر مجھے ایک ہی دفعہ میں منتخب کر لیا گیا۔ اس وقت میرے وہ ساتھی جو چند دن قبل میرے کام کے حوالے سے فکرمند تھے، کہنے لگے کہ اللہ کا کرشمہ بھی عجیب ہوتا ہے، بلاشبہ روزی روٹی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
میں اپنے قارئین سے اس موقعے پر ایک بات کہنا چاہوں گا۔ وہ بات یہ ہے کہ انسانی زندگی میں طرح طرح کے مسائل درپیش ہوتے ہیں، بسااوقات آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ساری دنیا تاریک ہو چکی ہے، مگر ایساحقیقت میں نہیں ہوتا۔ دراصل ایسے وقت میں آدمی درپیش مسائل کا چیلنج قبول کرنے کے بجائے ہمت جلدی سے ہار بیٹھتا ہے۔ حالانکہ ایسے وقت میں اگر وہ ذرا ہمت اور صبر سے کام لے، اخلاص سے دعائیں کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے سارے ہی مسائل حل کر دیتے ہیں۔
معذرت نامہ:
قارئین کرام! میں نے اپنے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، کوئی ضروری نہیں کہ آپ کو اچھا ہی لگے۔ چونکہ ہر ایک کا مزاج اللہ تعالیٰ نے الگ الگ بنایا ہے، اس لیے ہر ایک سے یہ امید رکھنا خام خیالی ہے کہ اس کو میری باتیں اچھی ہی لگیں یا وہ میرے بارے میں جاننے کا شوقین بھی ہو۔ دراصل ہر آدمی کچھ ایسے ادوار سے گزرتا ہے جنھیں وہ کم سے کم اپنی ڈائری سے مٹا نہیں پاتا۔ میں نے بھی جو کچھ لکھا ہے وہ اپنے حافظے سے یا اپنی یومیہ ڈائری کے حوالے سے لکھا ہے۔ یہ اس لیے لکھا ہے کہ چلو اسی بہانے میری کتابوں کے قارئین کے بار بار سوال کا جواب تو میں نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں دے دیا اور وہ جواب یہی ہے جو آپ نے اوپر پڑھا۔
میں یہاں مزید تجربات یا جو کچھ میں لکھنا چاہتا تھا وہ نہ لکھ کر صرف آگے اپنامختصر سی وی آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔