کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 408
میں نے یہ واقعہ اس لیے بھی بیان کیا ہے کہ تقریباً ہر آدمی کو ایسے موڑ سے لامحالہ گزرنا پڑتا ہے، اگر ایسا موقع آ ہی جائے تو آدمی کو گھبرانے کے بجائے حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ کسی کی دھمکی سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہر آدمی اپنی قسمت کا لکھا ہوا پا کر رہتا ہے؛ خواہ دھمکی دینے والا خود کو کچھ بھی سمجھ بیٹھے!! غرض آٹھ ماہ تک اس دکان میں ڈیوٹی کرتا رہا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کہ مجھے اس کام سے نجات دے اور علمی کام میں جگہ عنایت فرمائے۔ بالآخر میری دعا قبول ہوئی اور میں آٹھ ماہ بعد ’’علامہ ابن باز اسلامک اسٹڈیز سنٹر‘‘ میں منتقل ہو گیا۔ اس ریسرچ سنٹر میں میں نے علمی کام کرنے کا سلیقہ سیکھا اور خوب خوب استفادہ کیا۔ کئی ایک کتابوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔ چونکہ میں کاتب بھی تھا اس لیے مجھے قرآن کی تفسیر ’’تیسیر الرحمن لبیان القرآن‘‘ کے مراجعہ کے علاوہ اس کی آیات کی پیسٹنگ کا موقع بھی ملا جو یقینا میرے لیے قابلِ فخر بات ہے۔ غرض جون 1999ء سے 2003ء تک اس ادارے میں علمی کام کرتا رہا۔ اس کے بعد وہاں سے میرا ٹرانسفر ہو گیا۔ اور میں نے مورخہ11اکتوبر 2003ء سے جنوری 2008ء تک مکتبہ دار السلام ریاض میں ترجمہ وتالیف کا کام انجام دیا۔ اس کے بعد سعودی عرب کے سپریم کورٹ کے وکیلوں کے ایک گروپ کے ساتھ بحث وتحقیق اور ترجمہ وتالیف کا کام کیا اور آج تک اسی کام میں ہوں۔ ایک یادگار دن: انسانی زندگی میں بے شمار تجربے سامنے آتے ہیں۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب مجھے علامہ ابن باز اسلامک اسٹڈیز سنٹر ریاض سے ٹرانسفر ہونے کا آرڈر ملا تھا۔ چونکہ میں کمپیوٹر وغیرہ کا علم نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی میرے پاس کوئی حرفت تھی۔ چنانچہ میرے چند ساتھی میرے بارے میں بات کرنے لگے کہ رضوان کے ساتھ جتنے لوگوں کو بھی ٹرانسفر کا لیٹر ملا ہے انھیں کمپیوٹر کا علم ہے، اس لیے انھیں سروس ملنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی؛ البتہ رضوان کے بارے