کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 407
ٹیچر ٹریننگ کا کورس کیے بغیر ہی تدریسی خدمات پر مامور ہو جاتے ہیں، اس لیے تربیتی کورس کا بہت بڑا حصہ ان سے مفقود ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی مدارس اور جامعات کے تربیتی اور اصلاحی پروگراموں میں ایسے خطابات سننے کو ملتے ہیں جن میں دھمکیوں کی آمیزش ہوا کرتی ہے۔ حالانکہ ایسے خطابات کے طلبہ پر خاص کر منفی اثرات ہوا کرتے ہیں۔ بہر حال یہاں سعودی عرب پہنچ کر بھی یہ دھمکیاں میرا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھیں۔ ابھی مجھے سعودی عرب میں چند ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ مجھے ایک ایسی دھمکی پڑی جو بلاشبہ اس وقت میرے لیے B52 سے کم نہ تھی۔ ہوتا یہ تھا کہ میں دکان کے کام نمٹانے کے بعد اخبارات اور جرائد کے مطالعہ میں مشغول ہو جاتا؛ جبکہ میرا یہ مشغلہ دکان کے منیجر کو قبول نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جس طرح وہ برسوں سے منجمد پڑا ہوا اپنی فکری توانائی کو دوسروں کی امیدوں کے سہارے چھوڑ دیا ہے، اسی طرح میں بھی اپاہج بن جاؤں۔ مگر میں فطری طور پر ایسا ہوں کہ میں اپنے ہی گلاس سے محنت کی کڑوی شراب پینے کا عادی ہوں۔ غرض منیجر صاحب نے مالکِ دکان سے شکوہ کر دیا کہ رضوان کو دکان کے کام میں دلچسپی نہیں، اسے دکان کے اندر موجود سامانوں کا عربی میں نام اور دام معلوم نہیں۔ مالک صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اور مجھ پر برس پڑے اور دکان سے انڈیا بھگانے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔ حالانکہ میں نے منیجر کی شکایت کو غلط ثابت کرنے کے لیے مالک صاحب سے کہا بھی کہ آپ کی دکان میں ہزاروں سامان ہیں، کسی کو بھی اٹھا کر مجھ سے اس کا عربی میں نام اور اس کا دام پوچھ لیں۔ اور فی الواقع انھوں نے پوچھا بھی اور چٹکی بھر کر میں نے صحیح صحیح جواب بھی دے دیا۔ مگر دھمکی تو اس کے بعد بھی ملتی رہی!! لیکن میرا اصول ہے کہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے بڑی سی بڑی دھمکیاں ہی نہیں، مشکلات کی ہر گھڑی سے نمٹنے کے لیے تیار رہتا ہوں۔ اور الحمد للہ اس کاہر وقت مجھے بڑا فائدہ ہوا ہے۔ یہاں میں شاعر کے ایک شعر کو تصرف کے ساتھ یہی کہوں گا:
دھمکیاں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آسان ہو گئیں
بیویاں مرتی گئیں اور میں شادیاں کرتا گیا