کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 406
اسے یہاں قلمبند کرنا مناسب نہیں۔ ہر بات کو منظر عام پر لانا بھی بے ادبی ہے۔ البتہ میں ان کا آج بھی شکرگزار ہوں کہ انھوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اتنا کچھ تعاون فرمایا۔ غرض مولانا ندوی صاحب نے اتنے سارے الفاظ کہنے اور میری درخواست پر مذکورہ چند کلمات لکھنے کے بعد اپنی جیب سے ایک کارڈ بھی نکال کر دیا کہ جامعہ ابن تیمیہ میں ایک درخواست بھیج دو اور اس کی فوٹو کاپی اِس کارڈ کے پتہ پر روانہ کر دو۔ یہ کارڈ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کا تھا۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ جامعہ ابن تیمیہ سے مولانا خورشید عالم سلفی حفظہ اللہ کا لیٹر آیا کہ آپ 24 فروری 1999ء کو ضروری کاغذات کے ساتھ جامعہ پہنچ جائیں تاکہ تبادلۂ خیال کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچا جا سکے۔ میں وہاں پہنچا تو ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ سے بات چیت ہوئی اور میری بحالی سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں ان کے مکتبہ میں ہو گئی۔ سعودی عرب میں سروس: 22 جون 1999ء کو میں ریاض چلا آیا۔ ہندستان میں مکتبہ کہا جائے تو لائبریری کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ ریاض میں میں نے مکتبہ کو اسٹشنری کی دکان کی شکل میں پایا اور اسی میں میری ڈیوٹی لگ گئی۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے سے رات گیارہ بجے تک کی یہ طویل ڈیوٹی ایسی تھی کہ آدمی لکھنے پڑھنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر میرا دستور تھا کہ دکان کے سارے کام نمٹانے کے بعد اخبارات وجرائد کے مطالعہ میں لگ جاتا اور رات گیارہ بجے جب چھٹی ملتی تو جلدی جلدی کھانا کھا کر ترجمہ کرنے اور کچھ لکھنے پڑھنے میں لگ جاتا۔ جبکہ ساتھی لوگ کمرہ میں سوئے ہوئے ہوتے۔ میں لکھنے پڑھنے کا کام برآمدے میں بیٹھ کر روشنی میں کرتا تھا؛ تاکہ کمرہ میں روشنی جلانے سے ساتھیوں کو تکلیف نہ ہو۔ سعودی عرب میں پہلی دھمکی: مجھے اپنی زندگی میں دھمکیوں سے بڑا واسطہ پڑا ہے۔خاص کر اسلامی مدارس اور جامعات میں طلبہ کو گاہے گاہے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ چونکہ ان اداروں میں اکثر اساتذہ