کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 405
دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ) آ پہنچے۔ ازہری صاحب نے ان سے کہا: ’’یہ لڑکا میرے جامعہ کا ہونہار طالبعلم ہے۔ امسال اس کی فراغت ہوئی ہے اور یہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے ریسرچ سنٹر میں بحیثیت باحث ومترجم کام کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے میں چاہوں گا کہ آپ بھی اس کی درخواست پر چند جملے سفارش کے لکھ دیں۔‘‘ مولانا محمد طاہر ندوی سلفی مدنی حفظہ اللہ نے اس وقت جو جملہ کہا وہ میں تازندگی نہیں بھول سکتا۔ وہ کہنے لگے: ’’جناب ازہری صاحب! آپ کے اِس ہونہار طالبعلم سے زیادہ قابل قابل لوگ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی کے قائم کردہ ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ میں کام کرنے کے لیے ترستے رہتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کے پیچھے پیچھے گھومتے رہتے ہیں مگر انھیں وہاں کام کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ جبکہ آپ وہاں کے ریسرچ سنٹر میں اپنے اس طالبعلم کو بحیثیت باحث بھیجنا چاہتے ہیں !!....مجھے تو نہیں لگتا کہ وہاں اس بچے کے لیے کوئی گنجائش نکل سکتی ہے، مگر جب آپ کہہ رہے ہیں تو میں لکھ دیتا ہوں !!.....۔‘‘ اور پھر انھوں نے جو میری درخواست پر لکھا اس کے الفاظ آج بھی میرے ذہن میں ہیں۔ انھوں نے لکھا: ’’جناب ڈاکٹر محمد لقمان سلفی صاحب! رضوان اللہ ریاضی کے اساتذہ سے معلوم ہوا ہے کہ موصوف محنتی اور ہونہار طالبعلم ہیں، پڑھنے لکھنے کے شوقین ہیں، اگر گنجائش ہو تو انھیں کام کا موقع فراہم کیا جائے۔‘‘ یہ سچ ہے کہ اس دن سے قبل نہ تو میں جناب مولانا محمد طاہر ندوی کے بارے میں کچھ جانتا تھا اور نہ ہی جناب ڈاکٹر محمد لقمان سلفی کے بارے میں۔ صرف سنی سنائی چند باتیں معلوم تھیں۔ جب مولانا محمد طاہر صاحب نے ایسی بات کہی تو اس وقت جو کچھ میرے دل میں آیا