کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 404
علم اور تجربات ملیں گے۔ میں نے ان کی نصیحت پر بچپن سے عمل کیا ہے اور آج تک مجھے اپنے ہم عمر یا کم علم لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ بلکہ میری بیوی نے شادی کے ایک دو سال کے بعد مجھے ٹوکا بھی تھا کہ آپ بوڑھے اور عمر دراز لوگوں میں کیوں ہمیشہ بیٹھتے ہیں ؟! دہلی میں قیام کے دوران میں نے مختلف علمائے کرام سے رابطہ رکھا۔ 4؍ اگست 1996ء کو پہلی دفعہ میں نے دہلی کے علاقہ نظام الدین میں موجود مولانا وحید الدین خان صاحب کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ انھوں نے میرے جذبات کی قدر کرتے ہوئے میری ڈائری پر اپنا پسندیدہ شعر لکھا: راہ میں جس نے کانٹے بچھائے، گالی دی پتھر برسائے اس پر چھڑکی پیار کی شبنم صلے اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کہنے لگے : میری زندگی میں علامہ اقبال کے ایک شعر نے نمایاں کردار ادا کیا اور میں ہمیشہ اسے اپنے پیش نظر رکھتا ہوں۔ پھر انھوں نے وہ شعر میری ڈائری میں لکھ کر دستخط کیا۔ وہ شعر یہ تھا جس کو میں بھی اپنی لائبریری میں لٹکا کر ہمیشہ رکھتا ہوں : یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں جامعہ ریاض العلوم دہلی سے فراغت اور عملی زندگی کا آغاز: فروری 1999ء میں میری جامعہ ریاض العلوم دہلی سے فراغت ہوئی۔ دہلی کے تعلیمی زمانے میں مجھے کافی تجربات ملے اور چونکہ دہلی ثقافت اور اہل ثقافت کا شہر ہے اس لیے یہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ فراغت کے بعد میں نے اپنے کاغذات جامعہ امام ابن تیمیہ بہار میں بھیج دیے۔ کیونکہ وہاں سے یہ اعلان مختلف جرائد میں شائع ہوا تھا کہ وہاں کے ریسرچ سنٹر میں باحثین کی ضرورت ہے۔میں اس سلسلے میں مولانا عبد الرشید عبد السلام ازہری رحمہ اللہ سے سفارشی لیٹر لے رہا تھا کہ اچانک وہاں مولانا محمد طاہر ندوی سلفی مدنی حفظہ اللہ (استاذ