کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 403
وہاں سے نکلنے والے ماہنامہ میں بحیثیت کاتب کام کرنے لگا۔ مگر جلد ہی میں اس میگزین کا بغیر کسی شان وگمان کے گو ایڈیٹر بن گیا۔ ہوتا یہ تھا کہ ملک کے کونے کونے سے اس کے لیے مضامین آتے اور مولانا عبد الرشید ازہری رحمہ اللہ مجھے ان کی کتابت کے لیے دے دیتے۔ میں دورانِ کتابت بہت سارے مضامین کی نوک پلک درست کر دیتا جس سے ازہری صاحب کو میرے اوپر کافی اطمینان ہو گیا اور انھیں بھی پروف کی جھنجٹ سے چھٹکارا مل گیا۔ کیونکہ میں کتابت کے بعد اچھی طرح سے اس کا پروف بھی کر ڈالتا تھا۔ یوں ازہری صاحب میگزین میرے ہی حوالے کر کے بیرونِ ملک کے سفر پر روانہ ہو جاتے اور جب وہ واپس آتے تو میگزین ہر طرح سے تیار ہو کر چھپنے کا انتظار کرتا رہتا اور آناً فاناً پریس میں بھیج دیا جاتا۔ بلکہ کئی ماہ تو پورا میگزین میرے ہی مضامین سے نکل گیا۔ ہاں ازہری صاحب کے خوف سے میں کئی مضامین میں اپنے چھوٹے بڑے رشتے داروں کے نام ڈال دیتا۔ یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا۔ اس سے مجھے میگزین نکالنے کا قدرے تجربہ بھی ہو گیا۔ در اصل اللہ تعالیٰ مجھے میرے خواب کو سجانے کے لیے تیار کرا رہا تھا کہ میں بھی ایک میگزین نکالنے کا خواب عمرآباد میں طالب علمی کے زمانے ہی سے دیکھ رہا تھا اور جو بہت ہی جلد منظر عام پر آنے والا ہے۔ ان شاء اللہ۔ دہلی میں قیام کے دوران علما اور سیاسی شخصیات سے تعلقات: جامعہ ریاض العلوم دہلی میں تعلیم کے دوران مجھے بہت سارے علمائے کرام اور سیاسی شخصیات کے پاس جانے اور ان سے استفادے کا موقع ملا۔ چونکہ دہلی ایک سنٹر ہے اور وہاں ملک وبیرون ملک کی معروف شخصیات تشریف لاتی رہتی ہیں، اس لیے وہاں علما اور اور معروف لوگوں سے ملنے میں آسانی رہتی ہے۔ میں نے دوران تعلیم وقت نکال کر بہت سارے بڑے لوگوں سے ملاقات کی۔ ویسے بھی میں بڑے لوگوں کے ساتھ ہی اپنا وقت گزارنا چاہتا ہوں۔ مجھے ایک دفعہ میرے ماموں جناب محمد حنیف مرحوم نے بچپن میں نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ پڑھے لکھے اور اپنی عمر سے بڑے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، اس سے تمھیں