کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 402
میں داخلہ لیا ہے۔ سبحان اللہ! کہیں خیر نہیں۔ در اصل جامعہ ریاض العلوم دہلی میں ہوتا یہ تھا کہ مولانا علی اختر مکی حفظہ اللہ دیوان الحماسہ کے چند اشعار پڑھاتے اور گھنٹی ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے ہی درس بند کر کے کہتے تھے کہ اس پانچ منٹ کے وقفہ کے درمیان میرے پڑھائے ہوئے اشعار جو لڑکا سنا دے گا میں اسے چائے انعام کے طور پر پلاؤں گا۔ درس کے اختتام کے چند لمحہ بعد ہی میں مولانا علی اختر مکی حفظہ اللہ کے پڑھائے ہوئے اشعار سنانے کے لیے ہاتھ اٹھا دیتا۔ دو تین مرتبہ تو مجھے چائے حسبِ وعدہ ملتی رہی مگر بعد میں مولانا صاحب کا یہ انعام میرے علاوہ میرے پچپن کلاس ساتھیوں کے لیے ہی مختص تھا، مجھے مولانا صاحب نے انعام سے مستثنیٰ قرار دیا اور اس کے بعد خاص طور سے میرا نام لے کر کہتے کہ اس انعام میں رضوان کا حصہ نہیں ہے اور میں مسکرا کر رہ جاتا!! ایک فرق جو نمایاں تھا: جامعہ دار السلام عمر آباد میں تعلیمی معیار بہت اونچا تھا اور یقینا وہاں تعلیم وتربیت کا اعلیٰ اور مجرب انتظام بھی ہے۔ مگر چونکہ وہ ادارہ دیہات میں ہے اور الف سے یاء تک کی تقریباً ساری ضروریات وہیں پوری کرنی پڑتی ہیں، اس لیے ثقافت کا بہر حال وہاں فقدان ہے۔ اور صرف وہی نہیں بلکہ شہر کے مقابلے ہندستان یا اس سے باہر کے ادارے بھی جو دیہات میں ہیں وہاں کا یہی حال ہے کہ وہ ثقافت سے دور ہی رہتے ہیں۔ مگر جامعہ ریاض العلوم دہلی میں آنے کے بعد تعلیمی معیار پر تو میں بات نہیں کرتا، کیونکہ یہاں کا معیارِ تعلیم عمرآباد سے کسی بھی طرح مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ مگر اتنا ہے کہ دار الحکومت میں یہ ادارہ ہونے کے سبب یہاں طلبہ کو ثقافت سے جلد ہی آشنائی ہو جاتی ہے اور یہاں کے طلبہ عام طور پر چھوٹے شہر یا دیہات میں قائم اداروں کے طلبہ سے پہلے اپنا مستقبل سجانے سنوارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک واضح فرق تھا جامعہ دار السلام اور جامعہ ریاض العلوم میں جو نمایاں تھا۔ ماہنامہ الاسلام سے تعلق: جامعہ ریاض العلوم دہلی میں ابھی آئے ہوئے چند ہی ماہ گزرے تھے کہ میں دوران تعلیم