کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 401
بریانی کھا کر میں نے پلیٹ رکھی ہے، بریانی باہر کچرے میں پھینک دو۔ میں نے بریانی کی پلیٹ چمچہ سمیت کچرے کے ڈبہ میں پھینک کر چھت پر اپنی ڈیوٹی میں چلا گیا۔ بعد میں اس نے پوچھا کہ پلیٹ اور چمچہ کہاں رکھ دیا؟ میں نے اسے کہا کہ اُدھر کچرے دان میں پھینک دیا ہے، تم نے پھینکنے کے لیے کہا، میں نے پھینک دیا۔ اب کیا تھا وہ بھاگی ہوئی کچرے دان میں ہاتھ ڈال کر پلیٹ اور چمچہ نکالنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسے کامیابی کیسے ملتی جبکہ بعد میں اس میں بہت سارا کچرا ڈال دیا گیا تھا۔ وہ مجھے بلا کر کہنے لگی: یار! تم کام کرنے والے نہیں لگتے ہو، کس نے تم کو کام پر رکھا ہے، تمھاری باتوں اور حرکتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کسی غیرمعمولی گھرانے کے ہو۔ بیچاری شراب پینے والی عیاش ماں کی اس دلاری دوشیزہ کو کیا معلوم تھا کہ دہلی شہر میں جتنے رقبہ میں اس کا گھر تھا اتنے رقبہ سے کہیں زیادہ جگہ میں اس بچے کا اصطبل تھا جو آج اس کا خادم بن کر اس کا کام کرنے آیا تھا!! جامعہ ریاض العلوم دہلی میں داخلہ: جب جامعہ ریاض العلوم کی تعطیل کے ایام ختم ہوئے تو ہمارا داخلہ جامعہ ریاض العلوم میں عا لمیت سال آخر میں اس شرط پر ہوا کہ میں باہر رہوں گا اور کھانے پینے کا انتظام باہر ہی رکھنا ہوگا۔ چنانچہ میں نے دہلی کے علاقہ جامع مسجد کے نزدیک پہاڑی بھوجلہ پر واقع مقیت گیسٹ ہاؤس میں روم کرائے پر لیا اور ریاض العلوم میں پڑھنے لگا۔ تعلیمی زمانے میں مجھے بارہا اس بات کا تجربہ ہوا کہ تبصرہ کرنے والے ساتھیوں کی کسی بھی ادارے میں کمی نہیں ہوتی۔ جامعہ اصلاحیہ سلفیہ پٹنہ میں جامعہ کی سطح پر فرسٹ آیا تو وہاں بھی کہنے والے کہتے تھے کہ رضوان کسی مدرسہ سے اوپر کی کئی ایک کلاسیں پڑھ کر آیا ہے اور جب عمر آباد میں پہنچا اور میرے نمبر اچھے آئے تو وہاں بھی کئی دوستوں کا کہنا تھا کہ میں چوتھی جماعت پڑھ کر آیا ہوں اور دوسری جماعت میں داخلہ لیا ہے۔ ادھر جب جامعہ دار السلام سے ششم جماعت چھوڑ کر جامعہ ریاض العلوم دہلی میں آیا اور اسی جماعت میں داخلہ لیا تو وہاں بھی میرے کئی ایک ساتھی کہنے لگے کہ رضوان عمرآباد سے آٹھویں جماعت فارغ ہو کر آیا ہے اور یہاں ششم جماعت