کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 375
[1]
[1] ٓپ کی عملی خدمات کے کے باب میں اتنا ہی لکھ دینا کافی ہے کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ شیخ ضیاء الرحمن اعظمی جیسے قابل شخصیت کا شمار بھی آپ کے شاگردوں میں سے ہوتا ہے جو کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے استاذ کر سی رہ چکے ہیں اور جن کی عملی کاوشوں کا دور دور تک شہرہ ہے۔ تدریسی خدمات کے ساتھ آپ نے کئی ایک کتابیں بھی تالیف فرمائی ہیں۔ مثلا: تاریخ کا ایک گمشدہ ورق اورسفرنامۂ حجاز وایران۔ شعری وشاعری چونکہ آپ کا پسندیدہ فن ہے اور عمر آباد میں جب بھی سالانہ مشاعرہ ہوتا ہے آپ ہندستان کے کونے کونے سے آئے ہوئے شعراء پر حاوی رہتے ہیں۔ اس لیے ایک شاعر ہوتے ہوئے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کا کوئی شعری مجموعہ نہ ہو؛ جبکہ ایک سچا شاعر اپنے لہو کو نچوڑ کر شعر کا ایک ایک مصرعہ بناتا ہے۔ چنانچہ آپ کے نچوڑے ہوئے لہو کا ایک شعری مجموعہ ’’نغماتِ حمد ونعت‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے اور ایک دوسرا مجموعۂ کلام ’’نظمیں اور غزلیں ‘‘ کے نام سے شائع ہوا چاہتا ہے۔
آپ نے علمی خدمات کا ایک چھوٹا سا عکسیہ بھی ہے کہ آپ نے علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’المنبہات‘‘ کا اردو میں ترجمہ کیا تھا جو ’’تازیانے‘‘ کے نام سے کارخانۂ تجارت لاہور سے 1950ء میں منظر عام پر آیا اور اس کا دوسرا ایڈیشن پرنٹنگ پریس ہاؤس بنگلور سے شائع ہوا۔
آپ ایک نیک طینت اور حساس طبیعت کے مالک ہیں۔ آپ ایک تہجد گزار انسان ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خواب کی تعبیر میں ید طولیٰ عنایت فرمایا ہے۔آپ خواب کی تعبیر چٹکی بھرتے ہی بتا ڈالتے ہیں۔ مجھے بھی ایک خواب کی تعبیر بتلائی تھی جو صد فیصد صحیح نکلی۔ میرے اس خواب اور اس کی تعبیر کی تفصیل آپ میری کتاب ’’علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ، یادوں کے سفر میں ‘‘ (35,39) میں پڑھ سکتے ہیں۔
مختصر یہ کہ آپ نے اپنی شاعری اور تدریس سے نہ جانے کتنے دلوں پر حکمرانی کی اور آج بھی کر رہے ہیں۔ فی الوقت آپ جامعہ دار السلام عمر آباد کے کئی ایک مشن سے جڑے ہوئے ہیں جن میں ماہنامہ راہِ اعتدال کی سرپرستی وغیرہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کامل عطا فرمائے۔ آمین
٭٭٭