کتاب: علامہ ابن باز یادوں کے سفر میں - صفحہ 374
عالم اسلام میں علمائے حق یوں ہیں بہت ان کو بخشا تھا مگر اللہ نے ہر امتیاز وہ کبھی کرتے نہ تھے شاہ وگدا میں کچھ بھی فرق ایک ہی ان کی نگاہوں میں تھے محمود و ایاز ان کی قدر و منزلت ہر شہر میں ہر ملک میں شام ہو یا ہو فلسطیں یا ہو وہ مصر و حجاز عابد پروردگار و زاہد شب زندہ دار قابل صد رشک تھی ان کی دعا ان کی نماز فیض ان کا عام تھا جو دو سخا ان کی سرشت ڈھونڈتے تھے خرچ کرنے کے لیے وجۂ جواز وقف کردیتا ہے جو بھی زندگی حق کے لیے کیوں نہ ہو دارین میں وہ سر بلند و سرفراز کاش مل جائے الٰہی پھر کوئی نعم البدل کرعطاحماد کو بھی ان کا کچھ سوز و گدازد [1]
[1] یہ قیمتی اشعار جناب مولانا ابو البیان حماد عمری حفظہ اللہ کے ہیں۔ آپ کا نام عبد الرحمن ہے۔ آپ کے والد کا نام عبداللطیف خان اور والدہ کانام آسیہ بیگم ہے۔ آپ کی ولادت 25 جولائی 1923 ء کو کرناٹک میں مالور علاقے کی ایک بستی میں ہوئی۔ آپ کو عمر کوئی تیرہ سال کی تھی کہ آپ کا داخلہ ہندستان کے ایک نامی گرامی ادارہ ’’جامعہ دار السلام عمر آباد، تامل ناڈو‘‘ میں ہوا۔ یہ سن 1936 ء کی بات ہے۔ وہاں آٹھ نو سال مسلسل تعلیم حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ سن 1945ء میں آپ کی فراغت ہو گئی۔ آپ پڑھنے لکھنے میں بڑا شوق رکھتے تھے۔ آپ کی علمی لیاقت کو دیکھتے ہوئے جامعہ دار السلام عمر آباد کے ذمہ داران نے آپ کو وہیں پڑھانے کی پیشکش کی۔ چنانچہ سن 1945ء میں آپ نے وہیں سروس شروع کر دی۔ اس وقت ملک میں آزادی کی لہر ہر طرف دوڑ چکی تھی اور ہندستان سے انگریزں کو ختم کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔اس وقت آپ نوجوان تھے اور یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ ویسے شاعری کا آغاز تو آپ نے سن 1938ء ہی میں کر دیا تھا۔ آپ نے حکیم فضل الرحمن سواتی رحمہ اللہ سے طب کی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ 1950 ء میں آپ کی شادی زہرہ بتول نامی خاتون ایم اے سے ہوئی۔