کتاب: الصادق الامین - صفحہ 723
طاری ہوا تو اس درخت میں ایسی تبدیلی آئی کہ اس کی خوبصورتی کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی بیان نہیں کرسکتا تھا، پھر اللہ نے مجھ پر جو وحی کرنی چاہی کی، اور دن اور رات میں مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں… یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! دن اور رات میں یہ پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں، اِن میں سے ہر نماز دس نمازوں کے برابر ہے، اس طرح یہ پانچوں نمازیں پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔ [1]
امام مسلم رحمہ اللہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے جایا گیا جو چھٹے آسمان میں ہے۔ وہیں وہ سب باتیں پہنچتی ہیں جو زمین سے بھیجی جاتی ہیں۔ اور وہیں وہ سب باتیں پہنچتی ہیں، جو اُوپر سے نازل کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
((إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ)) [النجم:16]
’’جب اُس سِدرہ کو وہ چیز ڈھانک رہی تھی جو اُسے ڈھانک رہی تھی۔ ‘‘ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ سونے کے پتنگے تھے۔ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں دی گئیں۔ پانچ نمازیں دی گئیں، سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں دی گئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اُن لوگوں کے بڑے گناہ معاف کر دیے گئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنایا۔ [2]
****
[1] ۔ مسلم، کتاب الإیمان، باب الإسرائ، حدیث: (162/259)، بخاری، مناقب الأنصار، حدیث: (3887)۔
[2] ۔ مسلم، کتاب الإیمان، باب الإسراء ،حدیث: (173/279)۔