کتاب: الصادق الامین - صفحہ 484
ہر یہودی کے پیچھے ایک مسلمان کواس کی اونٹنی پر سوار کردیا گیا، لیکن راستہ میں اُسیر کی نیت بدل گئی، اور اپنے کیے گئے وعدے پر نادم ہوا، اور اس کی ندامت کا اثر اس کے چہرے سے ظاہر ہونے لگا۔
عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ جو اس فوجی دستہ میں موجود تھے، کہتے ہیں کہ اس نے اپنا ہاتھ میری تلوار کی طرف بڑھانا چاہا، میں نے یہ سمجھ لیا اور اپنی اونٹنی کو مہمیز لگائی اور کہا: اے اللہ کے دشمن! تم دھوکا دینا چاہتے ہو، پھر میں نے ظاہر کیا کہ مجھے نیند آرہی ہے، اور اس کے قریب ہوا، تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کرتا ہے؟اس نے میری تلوار لے لی، تو میں نے اپنی اونٹنی کو مہمیز لگائی اور کہا: کیا کوئی شخص ہے جو اُتر کر ہماری اونٹنیوں کو آگے بڑھائے، تو کوئی نہیں اُترا، تب میں خود ہی اپنی اونٹنی سے اُتر کر لوگوں کی سواریوں کو ہانکنے لگا، یہاں تک کہ اُسیر تنہا رہ گیا، تو میں نے اس پر اپنی تلوارچلا دی، اور اس کے پاؤں کا پچھلا حصہ کاٹ ڈالا، جس سے زخمی ہوکر وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس کے ہاتھ میں ایک پہاڑی درخت سے بنی لاٹھی تھی، جس کا سرا ٹیڑھا تھا،اس نے مجھے اس سے مارا، اور میرے سر کو زخمی کردیا، اور اس کے بعد ہم تمام مجاہدین اس کے ساتھیوں پر پِل پڑے اور ان تمام کو قتل کردیاسوائے ایک آدمی کے جو تیز دوڑتا ہوا بھاگ گیا، اور مسلمانوں میں سے کوئی قتل نہیں ہوا، پھر ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم سب کو ظالم قوم سے نجات دی ہے۔ [1]
سریّہ کُرز بن جابر فہری رضی اللہ عنہ :
اس فوجی دستہ کو اللہ کے رسول نے قبیلۂ عرینہ والوں کے پاس شوال سن 6 ہجری میں بھیجا تھا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ قبیلۂ عکّل اور قبیلۂ عُرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے اور اسلام کی بات کی، اور کہا: اے اللہ کے نبی ! ہم لوگ جانور پالنے والے لوگ تھے، شہر میں کبھی نہیں رہے، اس لیے ہمیں مدینہ کی آب وہوا راس نہیں آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سُن کر اُن کے لیے کچھ انٹنیوں اور ایک چرواہے کا حکم دیا، اور ان سے کہا کہ اس چرواہے کے ساتھ وہ شہر سے باہر جاکر رہیں، اور اونٹنی کا دودھ اور پیشاب پییں، وہ لوگ وہاں سے نکل کر جب حرّہ کے کنارے پہنچے تو اپنے کفر کا اعلان کردیا، چرواہے کو قتل کردیا، اور اونٹنیوں کو ہانک کر لے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوجب خبر ہوئی تو ان کو پکڑنے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ سب پکڑ لیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم لوہا پھیر دیاگیا، اور ان کے ہاتھ کاٹ دیے گئے اور حرّہ کے ایک کنارے چھوڑ دیے گئے، اور اسی حال میں وہ سب مرگئے۔ [2]
ابن سعد نے لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑنے کے لیے بیس گھوڑسواروں کو کُرز بن جابر فہری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا، انہوں نے ان سب کو گھیر کر قید کرلیا، اور باندھ کر اپنے گھوڑ وں پر بٹھاکر مدینہ لے آئے۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخ پھیر دی گئی، اور پھر انہیں لٹکادیا گیا، انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
((إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ
[1] ۔ مغازی الواقدی: 2/567، 568، طبقات ابن سعد: 2/ 9 2، 93، عیون الأثر: 2/ 151، 15 2۔
[2] ۔ صحیح البخاری، المغازی، حدیث: (419 2)، صحیح مسلم، القسامہ، حدیث: (1671)۔