کتاب: الصادق الامین - صفحہ 463
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بھی ایسا ہی کیا، اپنے ہتھیار اور جنگی لباس پہن کر گھوڑوں پر سوار ہوگئے، جن کی تعداد چھتیس تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ دو گھوڑے لیے اور ایک پر سوار ہوگئے۔ اور مدینہ میں اپنا نائب عبداللہ بن امّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا اور صحابہ کرام کے ساتھ چل پڑے ، گھوڑ سوار اور پیدل چلنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں [1]طرف سے چل پڑے، راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، ان میں حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ سب کے سب ہتھیاروں سے لیس ہوکر صف بنائے کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس سے کوئی گزرا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، دحیہ کلبی ایک خچر پر سوار یہاں سے گزرے ہیں، اور ہمیں جنگی لباس پہننے کا حکم دیا ہے، اس لیے ہم نے اپنے ہتھیار سنبھال لیے ہیں اور صف بناکر کھڑے ہوگئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے۔ [2] بنو قریظہ کا حصار: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ پہنچ کر ’’انا‘‘ نامی کنویں کے پاس فروکش ہوئے جو حرۂ بنی قریظہ کے دامن میں داقع ہے، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ مہاجرین وانصار کی ایک جماعت کے ساتھ پہلے پہنچ چکے تھے، جنہیں دیکھ کر یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں کو گالیاں دینے لگے، لیکن مسلمان خاموش رہے، بس صرف اتنا کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب تلوار ہی فیصلہ کرے گی، اورجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے آپؐ سے کہا کہ آپ یہود کے قلعوں کے قریب نہ جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں، شاید تم نے میرے بارے میں ان کی زبان سے کوئی تکلیف دہ بات سنی ہے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا:ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جب وہ مجھے دیکھ لیں گے تو ایسی کوئی بات نہیں کہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قلعہ کے پاس اُترے، (اُس وقت وہ سب قلعہ کے بالائی حصہ میں تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے اُن کے سردار وں میں سے کچھ کے نام لے کر پکارا، اور کہا: اے جماعتِ یہود! اے بندروں کے بھائی! میری بات کا جوا ب دو، اللہ عزوجل کی رسوائی تم پر نازل ہوچکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچیس رات ان کا محاصرہ کیا، اس درمیان کسی طرف سے نہ تیر چلا اور نہ پتھر، اور بنوقریظہ نے اس پوری مدت میں اپنے قلعوں سے نکلنے کی ہمت نہیں کی۔
[1] /کے رجال صحیح کے رجال ہیں، ابن ابی ہذیل کے سوا جو ثقہ راوی ہیں۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کے عمل کی تائید کی، وہ جماعت جس نے ظاہری نص پر عمل کیا اور بنو قریظہ پہنچنے کے بعد ہی نماز پڑھی، اور وہ جماعت جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ سمجھا کہ آپ نے صحابہ کرام کے بنوقریظہ جلد از جلد پہنچنے کا شدید اہتمام کیا، تاکہ ان پر اچانک حملہ کردیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نماز کو ضائع کرنا اور اسے اس کے وقتِ مقرر سے مؤخر کرنا ہرگز نہیں تھا۔ اس تفصیل سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو شخص ظاہر نص پر عمل کرے گا، اس کا عمل صحیح ہوگا، اور اللہ کی جانب سے اجر کا مستحق ہوگا، اور جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی حکمت کو جاننا چاہے گا اور قرآن وسنت کی روشنی میں اس کے غایت ومقصود کو پانا چاہے گا وہ بھی اللہ کی جانب سے اجر کا مستحق ہوگا، اگرچہ اس نے ظاہر کی مخالفت کی جو فہم انسانی کے زیادہ قریب اور واضح ہے۔ واللہ ولی التوفیق۔ [2] ۔ مسند احمد: 6/ 141، 14 2، ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کی سند جید ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (11/ 53) میں لکھا ہے کہ اس کی سند حسن ہے، اور ابن حبان نے اپنی کتاب الصحیح میں حدیث (6989) کے تحت روایت کیا ہے۔