کتاب: الصادق الامین - صفحہ 462
غزوۂ بنی قریظہ جبریل علیہ السلام بنو قریظہ کے خلاف جنگ میں: ہم نے یہ بات جان لی ہے کہ غزوۂ خندق کی ابتدا شوال سن 5 ہجری میں ہوئی تھی اور کافروں کا محاصرہ ابتدائے ذی القعدہ میں ختم ہوا تھا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے لوٹ کر مدینہ آئے، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے گھر داخل ہوکر، اپنا سردھویا اور غسل کیا پھر ظہر کی نماز پڑھی، اُسی وقت جبریل علیہ السلام ایک خچر پر سوار ہوکر آئے جس پر چمڑے کی زین اور اس پر ایک چادر پڑی تھی، جس کے کناروں پر غبار چمک رہا تھا۔ جبریل علیہ السلام نے جنازہ پڑھنے کی جگہ پر کھڑے ہوکر آواز لگائی، اے جہاد کرنے والے ! لائیے اس آدمی کو جو آپ کو معذور سمجھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر باہر نکلے تو جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا میں آپ کو دیکھ نہیں رہا ہوں کہ آپ نے جنگ کا لباس اُتار دیا ہے، حالانکہ فرشتوں نے ابھی نہیں اُتار اہے، ہم نے دشمنوں کو حمراء الأسد سے آگے بھگادیا ہے۔ اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ بنو قریظہ تک چل کر جائیے، میں بھی ان کے پاس جا رہا ہوں، اور ان کے قلعوں کو متزلزل کرنے والا ہوں۔ عَلَمِ اسلام سیّدناعلی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلاکر ان کے ہاتھ میں اسلام کا علَم دیا، یہ وہی علَم تھا جو غزوۂ خندق کے لیے بلند کیا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ لوگوں میں اعلان کردیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے ہیں کہ وہ عصر کی نماز بنو قریظہ میں پڑھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زِرہ ، خود اور جنگی لباس پہن لیا، اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لے لیا اور ڈھال سنبھال کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے۔ [1]
[1] ۔! ایک علمی فقہی فائدہ: اس حدیث کو امام بخاری ومسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے دن فرمایا: کوئی شخص عصر کی نماز بنو قریظہ کے سوا کسی دوسری جگہ نہ پڑھے، بعض لوگوں کی نماز کا وقت راستہ میں ہی ہوگیا، تو کسی نے کہا کہ ہم بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز نہیں پڑھیں گے، اور کسی نے کہا : ہم پڑھیں گے، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہیں تھا جو کچھ لوگوں نے سمجھا ہے ، یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو آپؐ نے ان میں سے کسی کو ڈانٹ نہیں پلائی۔ (صحیح البخاری، المغازی، حدیث: (4119)، صحیح مسلم ، الجہاد، حدیث: (1770)۔) اور طبرانی نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو تاکید کی کہ وہ عصر کی نماز بنو قریظہ میں پڑھیں، چنانچہ وہ جنگی ہتھیار ولباس پہن کر نکل پڑے، اور بنو قریظہ آفتاب غروب ہونے کے بعد پہنچے، راستہ میں عصر کی نماز کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہوگیا ، کسی نے کہا: وقت آگیا ہے تو ہمیں راستہ میں ہی نماز پڑھ لینا چاہیے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نماز کو فوت کرنا نہیں تھا، اور کسی نے کہا آپؐ نے ہمیں تاکید کی تھی کہ ہم بنو قریظہ میں ہی نماز پڑھیں، اس لیے اگر ہم رسو ل اللہ کی عزیمت پر عمل کریں گے تو ہمیں کوئی گناہ نہیں ہوگا، چنانچہ ایک گروہ نے راستہ میں ہی عصر کی نماز پڑھ لی، اور دوسرے گروہ نے غروب ِآفتاب کے بعد بنو قریظہ پہنچ کر نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں گروہوں میں سے کسی کو نہیں ڈانٹا، ہیثمی نے مجمع الزوائد (6/140) میں لکھا کہ اسے طبرانی نے (19/ 79، 80) حدیث: (160) کے تحت روایت کیا ہے اور اس / / /