کتاب: الصادق الامین - صفحہ 427
غزوۂ بنی المصطلق بنی مصطلق قبیلۂ بنو خزاعہ أزدیہ کی ایک شاخ ہے جس کا نسب اوس وخزرج کے ساتھ انصار کے جد ثانی (دوسرے دادا) اور مصطلق کے جد رابع (چوتھے دادا) میں ملتا ہے۔ یہ لوگ قدید اور عسفان کے درمیان مکہ سے تقریباً اسّی سے ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلہ پر رہتے تھے۔ اور قبیلۂ خزاعہ کے لوگ مرالظہران (جو مکہ سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے) اور ابواکے درمیان رہتے تھے (جو مکہ سے دو سو چالیس کلومیٹر کی دوری پر ہے)اور خزاعہ کا مسلمانوں کے ساتھ صلح پسندی کا موقف سب کے نزدیک معروف تھا، حالانکہ وہ لوگ مشرک تھے اور مکہ سے قریب رہتے تھے، اور غالباً اس کا سبب انصار کے ساتھ ان کی پرانی رشتہ داری اور بعض دیگر مصالح تھے۔ بنی المصطلق کے لوگ غزوۂ احد سے پہلے مشرکینِ مکہ کے جھوٹے پروپیگنڈوں اور عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرنے کے سبب دھوکے میں آگئے۔ اسی لیے غزوۂ احد میں قریش کے مختلف الانواع فوجیوں کے درمیان وہ بھی پائے گئے، اسلام کے خلاف ان کا یہ پہلا موقف تھا، اور جب انہوں نے غزوۂ احد میں مسلمانوں کی ہزیمت دیکھی تو دوسرے عرب قبائل کی مانند ان کی بھی جرأت بڑھ گئی۔ سن 5 ہجری ماہ رجب کے اواخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی کہ بنی المصطلق کا سردار حارث بن ابوضراراپنی قوم اوردیگر عربوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کی سوچ رہا ہے۔ اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے حالات کا جائزہ لینے اور اس خبر کی تصدیق کے لیے بریدہ بن الحصیب الاسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے جاکر حارث بن ابو ضرار سے ملاقات کی، اوراس سے کہا کہ وہ ان کی مدد کے لیے آیا ہے۔ انہیں دورانِ گفتگو یقین ہوگیا کہ یہ لوگ مدینہ جاکر حملہ کرنے کے لیے ہتھیار اور افراد جمع کررہے ہیں۔ وہ فوراً واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعۂ حال سے باخبر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راجح قول کے مطابق سو موار کے دن 2/شعبان سن 5 ہجری کومدینہ منورہ سے سات سو مجاہدین پر مشتمل فوج لے کر چل پڑے، [1] آپ کے ساتھ اس سفر میں امّ المومنین عائشہ اور امّ المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہما تھیں، مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنادیا، ایک دوسرے قول کے مطابق ابوذر کو، اور تیسرے قول کے مطابق نمیلہ بن عبداللہ اللیثی رضی اللہ عنہ کو بنایا، اس سفر میں آپؐ کے ساتھ منافقین کی ایک جماعت بھی نکلی، جو اس سے پہلے کسی غزوہ میں نہیں نکلی تھی۔
[1] ۔ یہ قولِ صحیح موسیٰ بن عقبہ کا ہے جسے انہوں نے زہری اور عروہ سے روایت کیا ہے، اور ابو معشر سندھی واقدی اور ابن سعد نے ان کی تائید کی ہے، یہی قول ابن القیم کا ہے جسے انہوں نے زاد المعاد (3/201) میں، اور ذہبی نے تاریخ الاسلام (2/275) میں اور ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے۔ اس قول کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ غزوۂ بنی المصطلق میں شریک ہوئے اور غزوۂ بنی قریظہ میں شہید ہوگئے، جو صحیح قول کے مطابق سن 5 ہجری میں ہوا تھا، معلوم ہوا کہ غزوۂ بنی المصطلق غزوۂ بنی قریظہ اور غزوۂ خندق سے پہلے ہوا تھا۔ وباللہ التوفیق۔