کتاب: الصادق الامین - صفحہ 400
رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں، اور اس کی سیدھی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر مدینہ کے لیے چل پڑے، اور مدینہ کی عورتیں اور بچے اپنے گھروں سے نکل کر مجاہدین میں اپنے شوہروں اور اپنے باپوں کو تلاش کررہے تھے، جبکہ وہ ذہنی طور پر اللہ کی راہ میں ہر مصیبت کو جھیل جانے کے لیے تیار نظر آرہے تھے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے والی کوئی نہیں ؟ راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے گھروں میں سے ایک گھر کے پاس سے گزرے تو اندر سے شہداء کے قتل کیے جانے پر رونے اور نوحہ کرنے کی آواز آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے اور رونے لگے، پھر فرمایا: لیکن حمزہ پر رونے والی کوئی نہیں ہے۔ جب سعد بن معاذ اور اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بنو عبدالاشہل کے گھروں کے پاس سے پہنچے تو اپنی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ سب جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا پر روئیں؛ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ پر ان کے رونے کی آواز سنی تو ان کے پاس پہنچے، وہ سب مسجد کے دروازے پر رورہی تھیں، اورکہا: تم لوگ لوٹ جاؤ، اللہ تم پر رحم کرے، تمہارے یہاں آنے سے مجھے یک گونہ تسلی ملی ہے۔ اور ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے رونے کی آواز سُنی تو فرمایا: اللہ انصار پر رحم کرے، ان کی طرف سے مجھے تسلی دی جانی تو پرانی بات ہے، انہیں حکم دو کہ وہ لوٹ جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو نوحہ کرنے سے شدت کے ساتھ منع فرمایا۔ [1] ابن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ احد سے واپس آئے تو انصار کی عورتوں کوروتے ہوئے سنا، فرمایا: لیکن حمزہ پر رونے والی کوئی نہیں؟ جب یہ بات انصار کی عورتوں کو معلوم ہوئی تو حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے، پھر بیدار ہوئے تو دیکھا کہ اب تک وہ سب رورہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کا بھلا کرے، اب تک رورہی ہیں، تو خوب رولیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں ۔ [2] ابو اُسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ میں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، صحابہ کمبل کو ان کے چہرے کی طرف کھینچتے تھے تو ان کے دونوں قدم کھل جاتے تھے قدموں کی طرف کھینچتے تھے تو ان کا چہرہ کھل جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کے چہرے پر ڈال دو اور ان کے دونوں قدموں پر درخت کے پتے اور ٹہنیاں ڈال دو، راوی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اُٹھایا تو آپ کے صحابہ کرام رورہے تھے۔ [3]
[1] ۔ مسند احمد: 7/ 98، احمد شاکر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے، مستدرک حاکم: 1/ 381، اور حاکم نے لکھا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے ، اور ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی تائید کی ہے اور طبقات ابن سعد: 3 / 16۔ [2] ۔ سنن ابن ماجہ، الجنائز، حدیث: (1591)، اور اس کی سند مسلم کی شرط کے مطابق ہے اور مسند احمد بحوالہ الفتح الربانی: 7/ 106، 107، اور اس کی سند جید ہے۔ [3] ۔ المطالب العالیہ، حدیث: (4322) اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ابوبکر ابن ابی شیبہ کی طرف منسوب کیا ہے اور بوصیری اس سے خاموش رہے ہیں اور ہیثمی نے مجمع الزوائد میں لکھا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقات ہیں۔