کتاب: الصادق الامین - صفحہ 399
کھڑے ہوکر ان کے لیے دعا کی پھر یہ آیت کریمہ پڑھی: ((مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا)) [الأحزاب: 23] ’’ مومنوں میں سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد وپیمان کو سچ کر دکھایا، پس اُن میں سے بعض نے اپنی نذر پوری کردی، اور بعض وقت کا انتظار کررہے ہیں، اور ان کے موقف میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک یہ سب مقتولین شہداء کی حیثیت سے پیش ہوں گے۔ [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف لوٹتے ہوئے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب شہداء کے دفن سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام کی صف بندی کی اوراللہ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: (( اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ ، اَللّٰہُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا ہَادِيَ لِمَا اَضْلَلْتَ ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ ہَدَیْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ ، وَلَا مُبَعِّدَ لِمَا قَرَّبْتَ ، وَاَللّٰہُمَّ) ابْسُطْ عَلَیْنَا مِنْ بَرَکَاتِکَ وَرَحْمَتِکَ وَفَضْلِکَ وَرِزْقِکَ ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ النَّعِیْمَ الْمُقِیْمَ الَّذِيْ لَا یَحُوْلُ وَلَا یَزُوْلُ ، اَللّٰہُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُکَ النَّعِیْمَ یَوْمَ الْعِیْلَۃِ (الْفَاقَۃُ) وَالْاَمْنَ یَوْمَ الْخَوْفِ۔ اَللّٰہُمَّ عَائِذٌ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اَعْطَیْتَنَا وَشَرِّ مَا مَنَعْتَ ، اَللّٰہُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْاِیْمَانَ وَزَیِّنْہُ فِیْ قُلُوْبِنَا، وَکَرِّہْ اِلَیْنَا الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِیْنَ ، اَللّٰہُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ وَاَحْیَیْنَا مُسْلِمِیْنَ وَاَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِیْنَ غَیْرَ خَزَایَا وَلَا مَفْتُونِیْنَ ، اَللّٰہُمَّ قَاتِلِ الْکَفَرَۃَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ ، وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ ، وَاجْعَلْ عَلَیْہِمْ رِجْزَکَ وَعذَابَکَ ، اَللّٰہُمَّ قَاتِلِ الْکَفَرَۃَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتَابَ اِلٰہَ الْخَلْقِ۔)) [2] اس دعا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باری تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ہے اور اپنے لیے اوراپنے صحابہ کرام کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت، فضل وکرم، روزی اور اس کی برکتوں کی دعا کی ہے، نیز قیامت کے دن کے خوف سے امن کی دعا کی ہے، اور دعا کی ہے کہ اللہ کفر وفسوق اور معصیت کی ان کے دلوں میں نفرت ڈال دے، اور ان سب کو ہدایت یافتہ بنادے، سب کو دنیا میں مسلمان زندہ رکھے اور جب موت آئے تو اسلام پر آئے، اور آخر میں آپ نے ان کافروں پر بد دعا کی ہے جو اللہ کے
[1] ۔ مستدرک حاکم: 3/ 200، اور حاکم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الإسنادہے، اور ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی تائید کی ہے۔ [2] ۔ مستدرک حاکم: 3/ 23، اور حاکم نے لکھا ہے کہ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے، اور ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی تائید کی ہے، مسند احمد: 3/ 324۔