کتاب: الصادق الامین - صفحہ 335
قریش کو جنگ سے باز رکھنے کے لیے حکیم بن حزام کی کوشش: جب حکیم بن حزام نے عمیر کی یہ بات سنی تو لوگوں سے ملا، پہلے عتبہ بن ربیعہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوالولید، آپ قریش کے سردارہیں اور آپ کی بات مانی جاتی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو آپ کی قوم ہمیشہ بھلائی کے ساتھ یاد کرتی رہے؟ آپ لوگوں کو لے کر مکہ واپس چلیے، اور اپنے حلیف عمرو بن حضرمی کی دیت خود برداشت کیجیے۔ اس نے کہا: میں تیار ہوں، آپ ابن الحنظلیہ یعنی ابو جہل کے پاس جائیے، مجھے اس کے سوا کسی سے ڈر نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی بات نہیں مانے گا۔ پھر عتبہ نے قریش کے سامنے تقریر کی اور انہیں واپس لوٹ چلنے کی نصیحت کی، اس لیے کہ اگر انہوں نے قتل کیا، تو وہ اپنے کسی چچا زاد یا خالہ زاد یا اپنے خاندان کے کسی فرد کو قتل کریں گے،ان سے یہ بھی کہا: تم لوگ لوٹ جاؤ، اور محمد اور تمام عربوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ، اگر ان لوگوں نے اس کا کام تمام کردیا تو تم یہی چاہتے ہو، اور اگر اس کے علاوہ دوسرا نتیجہ سامنے آیا تو تم اس سے اس حال میں ملوگے کہ وہ تمہیں اس بات کا عار نہیں دلائے گا جو تم چاہتے ہو۔ حکیم ابو جہل کے پاس گیا اور اس کو عتبہ کی رائے سے مطلع کیا، تو اس نے اس کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم ! جب سے اس نے محمد اور اس کے ساتھیوں کو دیکھا ہے، مارے خوف کے کانپنے لگا ہے اور بزدل ہوگیا ہے، اللہ کی قسم ! ہم ہرگز واپس نہیں جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ کردے، اور عتبہ کی بات کا کوئی اعتبار نہیں، اس نے تو دیکھا ہے کہ محمد اور اس کے ساتھی اونٹ کا گوشت کھانے والے ہیں اور ان کے درمیان اس کا بیٹا بھی ہے، وہ دراصل تم سے اپنے بیٹے کے بارے میں ڈررہا ہے۔ ابو جہل نے عمر وبن الحضرمی کے بھائی کو حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی عمرو کا خون طلب کرے، چنانچہ اس نے سُرین کھول دیا، اور چیخنے لگا، ہائے میرا بھائی عمرو! یہ سن کر کافروں کی حمیت جاگ اُٹھی اور ابوجہل نے اس رائے کو بگاڑ دیا جسے عتبہ نے لوگوں کے سامنے پیش کی تھی۔ [1] اسی اثناء میں اسود بن عبدالأسد مخزومی نکلا، جو ایک سرکش، تند مزاج اور بداخلاق آدمی تھا، او رکہا: میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کے حوض کا پانی ضرور پیوںگا، یا اسے منہدم کردوں گا، یا اپنی جان دے دوں گا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ مشرکین کے پیاسے وہاں سے پانی پییں، لیکن مسلمانوں کی صفوں میں تکبر کے ساتھ داخل ہونے کا مقابلہ سختی کے ساتھ ہی کرنا تھا، چنانچہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ صف سے آگے بڑھے اور اسے ایک کاری ضرب لگاکر اس کا پاؤں حوض پر پہنچنے سے پہلے ہی کاٹ ڈالا، اور وہ اپنی پیٹھ کے بل گرگیا، پھر وہ حوض کی طرف گِھسَٹتا ہوا اس میں داخل ہوگیا، پیچھے سے حمزہ رضی اللہ عنہ آئے پھر دوسری کاری ضرب لگاکر حوض میں ہی اسے قتل کردیا۔ معرکہ کی ابتدا: عربوں کا طریقہ تھا کہ جنگی معرکے جانبین کے گھوڑ سواروں کے درمیان مقابلے کے ذریعہ ہوتے تھے، چنانچہ عتبہ بن
[1] ۔ الحیاۃ العسکریہ: ص/ 36، الاکتفائ: 2/ 1- 223۔