کتاب: الصادق الامین - صفحہ 226
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیتیں نجاشی اور اس کے دربار یوں کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، اور نصرانیوں کا یہ وفد حبشہ سے آیا تھا، حقیقتِ حال کی صحیح خبر اللہ کو ہی ہے۔ [1]
قریش کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ابو طالب سے ان کی موت کے وقت بات کرنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بنی ہاشم وبنی مطلب اور باقی قریشیوں کے درمیان ظاہری بائیکاٹ تو عہد نامے کوپھاڑ دینے کے بعد ختم ہوگیا، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ مشرکوں کے دلوں میں عداوت کی بھڑکتی آگ بجھ گئی یا کم از کم سرد پڑگئی،بلکہ اس کے شعلے اور اونچے ہونے لگے، اور شیاطینِ قریش نے دعوتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی کارستانیوں کو تیز تر کردیا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت پر کاری ضرب لگانے کے لیے نِت نئے طریقوں کے بارے میں سوچنے لگے، اور اِدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لوگوں سے ملاقاتیں اورموسمِ حج اور دیگر اوقات میں مکہ آنے والے اشخاص ووفود سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتصالات میں تیزی آگئی اور اس کے مثبت آثار بھی ظاہر ہونے لگے، اس لیے قریشیوں نے ابوطالب کے ساتھ اپنی آخری کوشش کے طور پر پھر ایک بار ان سے ملنا چاہا، اُس وقت ابوطالب کی عمر اسی(80) سال سے تجاوز کرگئی تھی، اور ان کی وفات کا وقت قریب آچکا تھا، ان کا ارادہ یہی تھا کہ وہ ابوطالب سے اس بات کا مطالبہ کریں گے کہ وہ اپنے بھتیجے کو اپنی دعوت کے لیے کام کرنے اور ان کے معبودوں کی عیب جوئی سے یکسر روک دیں۔
اس بارے میں حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن اسحاق کی سند سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جب ابوطالب بیمار پڑے اور قریشیوں کو ان کے شدتِ مرض کی خبر ہوئی تو انہو ں نے ایک دوسرے سے کہا: حمزہ اورعمر دونوں مسلمان ہوگئے اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دعوت کا چرچا تمام قبائلِ قریش میں ہونے لگا ہے۔ اس لیے ہمیں ابوطالب سے مل کر یہ کہنا چاہیے کہ وہ اپنے بھتیجے سے اس بارے میں کوئی قطعی بات کریں۔ اللہ کی قسم ! اب تو ہمیں ڈر ہوچلا ہے کہ کہیں ہماری سیادت وقیادت ہی بنی ہاشم کے لوگ ہم سے یکسر چھین نہ لیں، چنانچہ یہ لوگ ابوطالب کے پاس گئے ، ان سے بات کی اور کہا: اے ابوطالب! آپ تو ہم میں سے ہیں ، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ، اور آپ اب اس حال کو پہنچ گئے ہیں کہ آپ کے بارے میں ڈرہونے لگا ہے ، ہمارے اورآپ کے بھتیجے کے درمیان مشکلات کا آپ کو بخوبی علم ہے، اس لیے آپ اسے بلائیے اور ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ کردیجیے، تاکہ وہ ہماری مخالفت سے رُک جائے، اور ہم اس کی مخالفت سے، وہ ہمیں اور ہمارے دین کو چھوڑ دے ، اور ہم اسے اور اس کے دین کو چھوڑدیں۔
ابوطالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے میرے بھتیجے! یہ تمہاری قوم کے معزز لوگ تمہارے سامنے جمع ہیں، تاکہ وہ تمہارے ساتھ سہولت برتیں اور تم ان کے ساتھ ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا! آپ لوگ ایک کلمہ کہہ دیجیے جس کے ذریعے آپ لوگ سارے عرب کے مالک بن جائیں گے، اور سارے عرب والے اس کے ذریعہ آپ کے تابعدار بن جائیں گے۔ ابو جہل نے کہا: ہاں ، تمہارے باپ کی قسم! ایک نہیں دس کلمات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کہو: ’’ لاإلٰہ الَّا اللّٰہ ‘‘اور اس کے سوا اپنے تمام معبودوں سے
[1] ۔ السیرۃ النبویۃ، ابن کثیر:2/40، سیرۃ ابن ہشام:1/392، عیون الأثر:1/129۔