کتاب: الصادق الامین - صفحہ 189
معبودوں کا انکار کرکے صرف ایک اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے پر ایمان لانے کا مطالبہ کرتی تھی۔ نیز اس بات کا مطالبہ کرتی تھی کہ تمام لوگ اپنی سیادت وکبریائی اور کبروغرور کوچھوڑ کر صرف اللہ اور اس کے رسول کے تابعدار بن جائیں۔ [1] ابوطالب کا موقف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کافر چچا تھے، ابو طالب اور ابولہب، اور آپ کے ساتھ معاملہ کرنے میں ان دونوں کے درمیان مشرق ومغرب کا فرق تھا، ابولہب آپ کا بڑا سخت دشمن تھا، جیساکہ ہم نے جانا، اور ابوطالب اس کے بالکل برعکس تھے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے لیے اللہ کی محبوب ترین مخلوق تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے، اچھا برتاؤ کرتے، آپؐ کا دفاع کرتے، اور آپؐ کی حمایت میں اپنی پوری قوم کی مخالفت کرتے، حالانکہ وہ انہی کے دین اور انہی کی عادات وتقالید پر سختی سے قائم تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں آپؐ کی فطری محبت کو راسخ کردیا تھا۔ عقیل بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ قریش ابوطالب کے پاس آکر کہنے لگے: آپ کے بھتیجے نے ہماری مجلسوں اورمسجد میں آکر ہمیں بہت تکلیف پہنچائی ہے، آپ اُسے روکیے ۔ ابوطالب نے کہا:اے عقیل !جاؤ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو میرے پاس لے کر آؤ۔ میں گیا اور انہیں ایک چھوٹے گھر سے نکال کر دوپہر کی سخت گرمی میں قریش کے پاس لایا۔ ابو طالب نے آپؐ سے کہا کہ تمہارے یہ چچا زاد لوگ کہہ رہے ہیں کہ تم انہیں ان کی مجلسوں اور ان کی مسجد میں بہت تکلیف پہنچاتے ہو، ایسا کرنے سے باز آجاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظر آسمان کی طرف پھیر کر کہا: تم لوگ اس آفتاب کو دیکھ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا، ہاں ، آپؐ نے فرمایا: میں اپنی دعوت پیش کرنے سے اس عوض میں بھی نہیں رُک سکتا کہ تم لوگ میرے لیے اس آفتاب کا ایک روشن ٹکڑا لادو۔ ابو طالب نے کہا: اللہ کی قسم! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، تم لوگ لوٹ جاؤ۔ [2] ابن اسحاق اور ان کی سند سے ابن جریر اور بیہقی روایت کرتے ہیں کہ قریش نے جب ابوطالب سے وہ بات کہی جو ابھی گزر چکی ہے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاکر کہا: اے میرے بھتیجے! تمہاری قوم نے مجھے آکر ایسا اور ایسا کہا ہے۔ تم اپنی حفاظت کرو، اور مجھے بھی میری طاقت سے زیادہ زیربار نہ کرو۔ تم اپنی قوم کو وہ بات نہ کہو جس کو وہ بُرا مانتے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ شاید ان کے چچاکی رائے ان کے بارے میں بدل گئی ہے اور وہ آپ کو ان لوگوں کے حوالے کردیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے چچا! اگر میرے دائیں ہاتھ میں آفتاب اور بائیں ہاتھ میں چاندرکھ دیا جائے تب بھی میں اس دعوت کو نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے غالب کردے، یا میں اسی راہ میں ہلاک ہوجاؤں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور رونے لگے۔جب آپؐ واپس جانے لگے تو ابوطالب نے آپ کا یہ حال دیکھ کر کہا: اے میرے بھتیجے! تم اپنا کام کیے جاؤ، اور جو راہ تم نے اختیار کی ہے اس پر چلتے جاؤ۔ اللہ کی قسم! میں تمہیں ہرگز کسی کے حوالے نہیں کروں گا۔[3]
[1] ۔ السیرۃ النبویۃ، ابن کثیر:1/454۔ [2] ۔ تاریخ کبیر، بخاری:4/5121، مسند ابو یعلیٰ:12/176۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مستدرک حاکم:3/577۔ [3] ۔ السیرۃ النبویۃ، ابن کثیر:1/463،464۔ اس حدیث کی سند اگرچہ معضل ہے، اس لیے کہ اس کے راوی یعقوب بن عُتبہ اتباع تابعین میں سے ہیں، کسی صحابی سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی، لیکن اس کی تائید مذکوربالا حدیث سے ہوتی ہے جسے امام بخاری، ابو یعلیٰ اور حاکم رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔