کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1168
ہوگئے۔ تمہارا الٰہ ! ____تمہارا الٰہ ! ____اس کے جواب میں نوفل نے ایک بڑی بات کہی ، بولا: بنو بکر !آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم ! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔
ادھر بنو خزاعہ نے مکہ پہنچ کر بُدَیْل بن وَرْقَاء خُزاعی اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام رافع کے گھروں میں پناہ لی اور عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے کہا :
یارب إني ناشد محمدا حلفنا وحلف أبیہ ألا تلدا
قد کنتم ولداً وکنا والدا ثمۃ أسلمنا ولم ننزع یدا
فانصر ہداک اللّٰه نصراً أیدا وادع عباد اللّٰه یأتوا مددا
فیہم رسول اللّٰه قد تجردا أبیض مثل البدر یسمو صعدا
إن سیم خسفا وجہہ تربدا في فیلق کالبحر یجری مزبدا
إن قریشاً أخلفوک الموعدا ونقضوا میثاقک المؤکدا
وجعلوا لی فی کداء رصدا وزعموا أن لست أدعوا أحدا
وہم أذل وأقل عددا ہم بیتونا بالوتیر ہجدا
وقتلونا رکعاً وسجدا
’’اے پروردگار ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے عہد اور ان کے والد کے قدیم عہد[1]کی دہائی دے رہا ہوں۔ آپ لوگ اولاد تھے اورہم جننے والے۔[2]ھر ہم نے تابعداری اختیار کی اور کبھی دست کش نہ ہوئے۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے ، وہ مدد کو آئیں گے۔ جن میں اللہ کے رسول ہوں گے ہتھیار پوش ، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت۔ اگر ان پر ظلم اور ان کی توہین کی جائے تو چہرہ تمتما اٹھتا ہے۔ آپ ایک ایسے لشکر ِ جرار کے اندر تشریف لائیں گے جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہوگا۔ يقيناً قریش نے آپ کے عہد کی