کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1164
نہ ہوسکے۔ اس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا کیونکہ ان کی دادی قبیلہ بلی سے تعلق رکھتی تھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ موتہ کے بعد ہی، یعنی جمادی الآخر ہ ۸ھ میں ان کی تالیف ِ قلب کے لیے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب روانہ فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی دی تھی کہ بنو قضاعہ نے اطرافِ مدینہ پر ہلہ ّ بولنے کے ارادہ سے ایک نفری فراہم کررکھی ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب روانہ کیا۔ ممکن ہے دونوں سبب اکٹھا ہوگئے ہوں۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے لیے سفید جھنڈا باندھا۔ اور اس کے ساتھ کا لی جھنڈیاں بھی دیں۔ اور ان کی کمان میں بڑے بڑے مہاجرین وانصار کی تین سو نفری دے کر ۔ انہیں ۔ رخصت فرمایا۔ ان کے ساتھ تیس گھوڑے بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بلی اور عذرہ اور بلقین کے جن لوگوں کے پاس سے گذریں ان سے مدد کے خواہاں ہوں۔ وہ رات کو سفر کرتے اور دن کو چھپے رہتے تھے۔ جب دشمن کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کی جمعیت بہت بڑی ہے۔ اس لیے حضرت عَمرو نے حضرت رافع بن مکیث جہنی کو کمک طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو عَلَم دے کر ان کی سرکردگی میں دوسو فوجیوں کی کمک روانہ فرمائی۔ جس میں رؤساء مہاجرین ۔ مثلا: ابو بکر وعمر ۔ اور سردارانِ انصار بھی تھے۔ ابو عبیدہ کو حکم دیا گیا تھا کہ عمرو بن عاص سے جاملیں ، اور دونوں مل کر کام کریں، اختلاف نہ کریں۔ وہاں پہنچ کر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے امامت کرنی چاہی۔ لیکن حضرت عمر و نے کہا: آپ میرے پاس کمک کے طور پر آئے ہیں۔ امیر میں ہوں۔ ابو عبیدہ نے ان کی بات مان لی اور نماز حضرت عمرو ہی پڑھاتے رہے۔ کمک آجانے کے بعد یہ فوج مزید آگے بڑھ کرقضاعہ کے علاقہ میں داخل ہوئی اور اس علاقہ کو روندتی ہوئی اس کے دور درازحدود تک جا پہنچی۔ اخیر میں ایک لشکر سے مڈبھیڑ ہوئی، لیکن جب مسلمانوں نے اس پر حملہ کیا تو وہ ادھر اُدھر بھاگ کر بکھر گیا۔ اس کے بعد عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کو ایلچی بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا۔ انہوں نے مسلمانوں کی بہ سلامت واپسی کی اطلاع دی اور غزوے کی تفصیل سنائی۔ ذات السلاسل (پہلی سین کو پیش اور زبر دونوں پڑھنا درست ہے ) یہ وادیٔ القریٰ سے آگے ایک خطہ ٔ زمین کا نام ہے۔ یہاں سے مدینہ کا فاصلہ دس دن ہے۔ ابن ِ اسحاق کا بیان ہے کہ مسلمان قبیلہ ٔ جذام