کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1154
کندھا کھلارکھیں (اور چادر دا ہنی بغل کے نیچے سے گزارکر آگے پیچھے دونوں جانب سے ) اس کا دوسراکنارہ بائیں کندھے پر ڈال لیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں اس پہاڑ ی گھاٹی کے راستے سے داخل ہوئے جو حجون پر نکلتی ہے۔ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے لائن لگا رکھی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل لبیک کہہ رہے تھے ،یہاں تک کہ (حرم پہنچ کر ) اپنی چھڑی سے حجر اسود کو چھویا، پھر طواف کیا۔ مسلمانوں نے بھی طواف کیا۔ اس وقت حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تلوار حمائل کیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چل رہے تھے اور رجز کے یہ اشعار پڑھ رہے تھے :
خلوا بنی الکفار عن سبیلہ خلوا فکل الخیر فی رسولہ
قد أنزل الرحمن في تنزیلہ فی صحف تتلی علی رسولہ
یا رب إني مؤمن بقیلہ إني رأیت الحق فی قبولہ
بان خیر القتل فی سبیلہ الیوم نضربکم علی تنزیلہ
ضرباً یزیل الہام عن مقیلہ ویذہل الخلیل عن خلیلہ [1]
’’کفّار کے پوتو! ان کا راستہ چھوڑ دو۔ راستہ چھوڑ دو کہ ساری بھلائی اس کے پیغمبر ہی میں ہے۔ رحمان نے اپنی تنزیل میں اتارا ہے۔ یعنی ایسے صحیفوں میں جن کی تلاوت اس کے پیغمبر پر کی جاتی ہے۔ اے پروردگار ! میں ان کی باتوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور اسے قبول کرنے ہی کو حق جانتا ہوں کہ بہترین قتل وہ ہے جو اللہ کی راہ میں ہو۔ آج ہم اس کی تنزیل کے مطابق تمہیں ایسی مارمار یں گے کہ کھوپڑی اپنی جگہ سے جھٹک جائے گی ، اور دوست کو دوست سے بے خبر کردے گی۔‘‘
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابن رواحہ ! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر کہہ رہے ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! انہیں رہنے دو۔ کیونکہ یہ ان کے اندرتیر کی مار سے بھی زیادہ تیز ہے۔[2]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے تین چکر دوڑ کر لگائے۔ مشرکین نے دیکھا تو کہنے لگے : یہ لوگ جن کے متعلق ہم سمجھ رہے تھے کہ بخار نے انہیں توڑ دیا ہے یہ تو ایسے اور ایسے لوگوں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔[3]