کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1149
شہادت دیتے ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی نہیں کروں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی راہ چھوڑ دی اور اس نے اپنی قوم میں جاکر کہا :میں تمہارے یہاں سب سے اچھے انسان کے پاس سے آرہا ہوں۔[1] صحیح بخاری کی ایک روایت بیان کیا گیا ہے کہ نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر وہ لوگ پیچھے چلے گئے اور آپ نے دوسرے گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں اور صحابہ کرام کی دو رکعتیں[2] ۔ اس روایت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے یہ نماز مذکورہ واقعہ کے بعد ہی پڑھی گئی تھی ۔ صحیح بخاری کی روایت میں جسے مسددنے ابو عوانہ سے اور انہوں نے ابو بشر سے روایت کیاہے، بتایا گیا ہے کہ اس آدمی کا نام غورث بن حارث تھا۔ [3]ابن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واقدی کے نزدیک اس واقعے کی تفصیلات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس اعرابی کانام دعثور تھا اور اس نے اسلام قبول کرلیا تھا لیکن واقدی کے کلام سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ الگ الگ دو واقعات تھے ، جو دو الگ الگ غزووں میں پیش آئے تھے۔[4] واللہ اعلم اس غزوہ سے واپسی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک مشرک عورت کو گرفتار کرلیا۔ اس پر اس کے شوہر نے نذر مانی کہ وہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر ایک خون بہا کررہے گا۔ چنانچہ وہ رات کے وقت آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے مسلمانوں کی حفاظت کے لیے دو آدمیوں، یعنی عباد بن بشر اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو پہرے پر مامور کر رکھا تھا۔ جس وقت وہ آیا حضرت عبادکھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے اسی حالت میں ان کو تیر مار ا، انہوں نے نماز توڑے بغیر تیرنکال کر جھٹک دیا۔ اس نے دوسرا اور تیسرا تیر مارا ، لیکن انہوں نے نماز نہ توڑی اور سلام پھیر کر ہی فارغ ہوئے۔ پھر اپنے ساتھی کو جگایا۔ ساتھی نے (حالات جان کر ) کہا : سبحان اللہ ! آپ نے مجھے جگا کیوں نہ دیا ؟ انہو ں نے کہا : میں ایک سورت پڑھ رہا تھا۔ گوارہ نہ ہوا اسے کاٹ دوں۔[5] سنگ دل اعراب کو مرعوب اور خوفزدہ کرنے میں اس غزوے کا بڑا اثر رہا۔ ہم اس غزوے کے بعد پیش