کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1148
حضرت ابوذر یا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما کے حوالے کیا اور جھٹ چار سو یا سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معیت میں بلادِ نجد کا رخ کیا۔ پھر مدینہ سے دودن کے فاصلے پر مقام نخل پہنچ کر بنو غطفان کی ایک جمعیت سے سامنا ہوا لیکن جنگ نہیں ہوئی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر صلوٰۃ ِ خوف (حالتِ جنگ والی نماز) پڑھائی۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ نماز کی اقامت کہی گئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر وہ پیچھے چلی گئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دورکعت نماز پڑھائی۔ یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں۔ اور قوم کی دورکعتیں۔ [1]
صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ایک ہی اونٹ تھا جس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے قدم چھلنی ہوگئے۔ میرے بھی دونوں پاؤں زخمی ہوگئے اورناخن جھڑ گیا۔ چنانچہ ہم لوگ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹے رہتے تھے۔ اسی لیے اس کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم نے اس غزوے میں اپنے پاؤں پر چیتھڑے اور پٹیاں باندھ اور لپیٹ رکھی تھیں۔
اور صحیح بخاری ہی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ ہم لوگ ذات الرقاع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (دستور یہ تھا کہ ) جب ہم کسی سایہ دار درخت پر پہنچتے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ (ایک بار) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا اور لوگ درخت کا سایہ حاصل کرنے کے لیے اِدھر اُدھر کانٹے دار درختوں کے درمیان بکھر گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے اُترے اور اسی درخت سے تلوار لٹکا کر (سوگئے )۔ حضر ت جابر فرماتے ہیں کہ ہمیں بس ایک نیند آئی تھی کہ اتنے میں ایک مشرک نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار سونت لی اور بولا : تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا : تب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا : اللہ!
حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہمیں اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پکار رہے تھے۔ ہم پہنچے تو دیکھا کہ ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں سویا تھا اور اس نے میری تلوار سونت لی۔ اتنے میں میں جاگ گیا اور سونتی ہوئی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے مجھ سے کہا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا: اللہ۔ تو اب یہ وہی شخص بیٹھا ہو اہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عتاب نہ کیا۔
ابو عوانہ کی روایت میں اتنی تفصیل اور ہے کہ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سوال کے جوا ب میں اللہ کہا تو ) تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ پھر وہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھا لی اور فرمایا: اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا : آپ اچھے پکڑنے والے ہویئے۔ (یعنی احسان کیجیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم