کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1124
بھائی کے پاس واپس آگیا اور بتلایا کہ بادشاہ تک میری رسائی نہ ہوسکی۔ بھائی
نے مجھے اس کے یہاں پہنچا دیا۔ ا س نے کہا : میں نے تمہاری دعوت پر غور کیا۔ اگر میں
بادشاہت ایک ایسے آدمی کے حوالے کردوں جس کے شہسوار یہاں پہنچے بھی نہیں تو میں عرب
میں سب سے کمزور سمجھا جاؤں گا۔ اور اگر شہسوار یہاں پہنچ آئے تو ایسا رن پڑے گا کہ انہیں
کبھی اس سے سابقہ نہ پڑا ہوگا۔
میں نے کہا: اچھا تو میں کل واپس جارہا ہوں۔
جب اسے میری واپسی کا یقین ہوگیا تو اس نے بھائی سے خلوت میں بات کی۔ اور بو لا : یہ پیغمبر جن پر غالب آچکا ہے ان کے مقابل ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ اور اس نے جس کسی کے پاس پیغام بھیجا ہے اس نے دعوت قبول کرلی ہے۔ لہٰذا دوسرے دن صبح ہی مجھے بلوایا گیا۔ اور بادشاہ اور اس کے بھائی دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ اور صدقہ وصول کرنے اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے مجھے آزاد چھوڑ دیا۔ اور جس کسی نے میری مخالفت کی اس کے خلاف میرے مدد گار ثابت ہوئے۔[1]
اس واقعے کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ بادشاہوں کی بہ نسبت ان دونوں کے پاس خط کی روانگی خاصی تاخیر سے عمل میں آئی تھی غالبا ً یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔
______________________________
ان خطوط کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت روئے زمین کے بیشتر بادشاہوں تک پہنچا دی۔ اور اس کے جواب میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر کیا ، لیکن اتنا ضرور ہوا کہ کفر کرنے والوں کی توجہبھی اس جانب مبذول ہوگئی۔ اور ان کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اور آپ کانام ایک جانی پہچانی چیز بن گیا۔
٭٭٭