کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1123
جو خود ہی درخت پر چر لیتے ہیں۔ میں نے کہا: ہاں ! عبد نے کہا : واللہ !میں نہیں سمجھتا تھا کہ میری قوم اپنے ملک کی وسعت اور تعداد کی کثرت کے باوجود اس کو مان لے گی۔ حضرت عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ میں اس کی ڈیوڑھی میں چند دن ٹھہرارہا۔ وہ اپنے بھائی کے پاس جاکر میری ساری باتیں بتاتا رہتا تھا۔ پھر ایک دن اس نے مجھے بلایا۔اور میں اندر داخل ہوا۔ چوبداروں نے میرے بازو پکڑ لیے۔ اس نے کہا :چھوڑ دو اور مجھے چھوڑ دیا گیا۔ میں نے بیٹھنا چاہا تو چوبداروں نے مجھے بیٹھنے نہ دیا۔ میں نے بادشاہ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا : اپنی بات کہو۔ میں نے سر بمہر خط اس کے حوالے کردیا۔ اس نے مہر توڑ کر خط پڑھا۔ اور پورا خط پڑھ چکا تو اپنے بھائی کے حوالہ کردیا۔ بھائی نے بھی اسی طرح پڑھا مگر میں نے دیکھا کہ اس کا بھائی اس سے زیادہ نرم دل ہے۔ بادشاہ نے پوچھا : مجھے بتاؤ قریش نے کیا روش اختیار کی ہے ؟ میں نے کہا : سب ان کے اطاعت گزار ہوگئے ہیں۔ کسی نے دین کی رغبت کی بنا پر اور کسی نے تلوار سے مقہور ہوکر۔ بادشاہ نے پوچھا: ان کے ساتھ کون لوگ ہیں ؟ میں نے کہا: سارے لوگ ہیں۔ انہو ں نے اسلام کو برضاورغبت قبول کرلیا ہے۔ اور اسے تمام دوسری چیزوں پر ترجیح دی ہے۔ انہیں اللہ کی ہدایت اور اپنی عقل کی رہنمائی سے یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ وہ گمراہ تھے۔ اب اس علاقہ میں میں نہیں جانتا کہ تمہارے سوا کوئی اور باقی رہ گیا ہے۔ اور اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کی تو تمہیں سوار روند ڈالیں گے۔ اور تمہاری ہریالی کا صفایا کردیں گے۔ اس لیے اسلام قبول کرلو۔ سلامت رہوگے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو تمہاری قوم کا حکمراں بنادیں گے۔ تم پر نہ سوار داخل ہوں گے نہ پیادے۔ بادشاہ نے کہا : مجھے آج چھوڑ دو اور کل پھر آؤ۔ اس کے بعد میں اس کے بھائی کے واپس آگیا۔ اس نے کہا: عمرو ! مجھے امید ہے کہ اگر بادشاہت کی حرص غالب نہ آئی تو وہ اسلام قبول کرلے گا۔ دوسرے دن پھر بادشاہ کے پاس گیا لیکن اس نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس لیے میں اس کے