کتاب: الرحیق المختوم - صفحہ 1122
میں نے کہا : میں جھوٹ نہیں کہہ رہاہوں ،اور نہ ہم اسے حلال سمجھتے ہیں۔
عبد نے کہا : میں سمجھتا ہوں ، ہرقل کو نجاشی کے اسلام لانے کا علم نہیں۔
میں نے کہا : کیوں نہیں۔
عبدنے کہا : تمہیں یہ بات کیسے معلوم ؟
میں نے کہا : نجاشی ہرقل کو خراج ادا کیا کرتا تھا لیکن جب اس نے اسلام قبول کیا ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
تصدیق کی تو بولا : اللہ کی قسم! اب اگر وہ مجھ سے ایک درہم بھی مانگے تو میں نہ دوں گا۔ اور
جب اس کی اطلاع ہرقل کو ہوئی تو اس کے بھائی یناق نے کہا : کیا تم اپنے غلام کو چھوڑ
دوگے کہ وہ تمہیں خراج نہ دے ؟ اور تمہارے بجائے ایک دوسرے شخص کا نیا دین اختیار
کرلے ؟ ہرقل نے کہا : یہ ایک آدمی ہے جس نے ایک دین کو پسند کیا۔ اور اسے اپنے لیے
اختیار کرلیا۔ اب میں اس کا کیا کرسکتا ہوں ؟ اللہ کی قسم ! اگر مجھے اپنی بادشاہت کی حرص نہ
ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو اس نے کیا ہے۔
عبد نے کہا : عمرو! دیکھو کیا کہہ رہے ہو ؟
میں نے کہا : واللہ ! میں تم سے سچ کہہ رہا ہوں۔
عبد نے کہا: اچھا مجھے بتاؤوہ کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟اور کس چیز سے منع کرتے ہیں ؟
میں نے کہا : اللہ عزوجل کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے منع کرتے ہیں۔ نیکی وصِلہ
رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اور ظلم وزیادتی ، زنا کاری ، شراب نوشی اور پتھر ، بت اور صلیب کی
عبادت سے منع کرتے ہیں۔
عبد نے کہا: یہ کتنی اچھی بات ہے جس کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر میرا بھائی بھی اس بات پر میری متابعت
کرتا تو ہم لوگ سوار ہوکر (چل پڑتے )یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے اور ان کی
تصدیق کرتے لیکن میرابھائی اپنی بادشاہت کااس سے کہیں زیادہ حریص ہے کہ اسے چھوڑ
کر کسی کا تابع فرمان بن جائے۔
میں نے کہا: اگر وہ اسلام قبول کرلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قوم پر اس کی بادشاہت برقرار رکھیں
گے۔ البتہ ان کے مالداروں سے صدقہ لے کر فقیروں پر تقسیم کردیں۔
عبد نے کہا: یہ بڑی اچھی بات ہے ، اچھا بتاؤ صدقہ کیا ہے ؟
جواب میں میں نے مختلف اموال کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کیے ہوئے صدقات کی تفصیل بتائی۔ جب اونٹ کی باری آئی تو وہ بولا : اے عمرو ! ہمارے ان مویشیوں میں سے بھی صدقہ لیا جائے گا ،